حیاتِ نور — Page 403
۰۰ ـور کرتے رہے۔مولوی محمد علی صاحب قرآن شریف کے بعض مقامات کے متعلق آپ سے سوال کرتے اور آپ جواب لکھواتے اور کچھ اور لوگوں کو بھی پڑھاتے۔ایک دن اسی طرح پڑھا رہے تھے۔مسند احمد کا سبق تھا۔آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے۔بخاری کا درجہ رکھتی ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد بن حنبل کے ایک شاگر داور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہوگئی ہیں جو اس پایہ کی نہیں ہیں۔میرا دل چاہتا تھا کہ اصل کتاب کو الگ کر لیا جا تا مگر افسوس کہ یہ کام میرے وقت میں نہیں ہوا اب شاید میاں کے وقت میں ہو جائے۔اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آ گئے۔آپ نے ان کے سامنے یہ بات دوہرائی کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہ ہوسکا۔آپ میاں کے وقت میں اس کو پورا کریں۔یہ بات وفات سے دو ماہ پہلے فرمائی۔وکے اس واقعہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول کے نزدیک آپ کے بعد خلافت جاری پہنی تھی اور آپ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کی بناء پر جانتے تھے کہ آپ کے خلیفہ حضرت سیدنا محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہی ہوں گے۔چنانچہ یہ امر جماعت کے ازدیاد ایمان کا موجب ہوگا که مسند احمد بن حنبل کی تدوین کا کچھ کام خلافت ثانیہ میں ہوا بھی ہے اور پھر ہو ابھی اس شخص کی نگرانی میں جو حضرت مولوی سید سردرشاہ صاحب کی طرح مفتی سلسلہ کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہے یعنی محترم ملک سیف الرحمن صاحب۔فالحمد للہ علی ذلک اسلام اور احمدیت کی اشاعت میاں صاحب کے زمانہ میں ہوگی ۱۹۷۲ء کے آخر میں تحریک جدید کے نئے سال کا پیغام دیتے ہوئے حضرت سیدنا خلیفہ اسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت اکناف عالم میں میاں صاحب کے زمانہ میں ہوگی۔۵۰ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو نصیحت که " قرآن مجھ سے یا میرے بعد میاں محمود سے پڑھ لینا“ آپ نے ایک مرتبہ شیخ عبد الرحمن صاحب مصری لاہوری کو جو اس وقت مصر میں تعلیم حاصل کے