حیاتِ نور

by Other Authors

Page 396 of 831

حیاتِ نور — Page 396

صور ترغیب سے سمجھا بجھا کر خاموش کرا دیتے کیونکہ خواجہ صاحب کو دراصل جو فکر تھی وہ یہ تھی کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اپنی نیکی، تقویٰ اور اثر ورسوخ کی وجہ سے دن بدن جماعت میں مشہور ہوتے جا رہے تھے۔اور مزید یہ کہ خود حضرت خلیفہ اسیح الاول بھی ان کا خاص احترام کرتے تھے اور حضور نے اب صدر انجمن احمدیہ کا پریذیڈنٹ بھی انہی کومقررفرمایا تھا اور آپ کی غیر حاضری میں حضرت صاحبزادہ صاحب ہی امام الصلوۃ اور خطیب ہوا کرتے تھے۔اور یہ ایسی باتیں تھیں جن کی بناء تھے۔اور با پر جناب خواجہ صاحب اور ان کی پارٹی کا یقین بڑھتا جاتا تھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول چاہتے ہیں کہ اپنے بعد خلافت کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب کو نا مزد کر دیں۔حضرت خلیفہ المسح " کے عزائم کے رستہ میں تو خواجہ صاحب حائل ہو نہیں سکتے تھے البتہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو جو باہر جماعتوں میں جانے کی وجہ سے عزت اور شہرت حاصل ہو رہی تھی اور ہے جماعت کے قلوب آپ کی طرف جھکے جارہے تھے اس کی روک تھام کے لئے جناب خواجہ صاحب نے ایک تدبیر سوچی اور وہ یہ تھی کہ آپ نے ایک طرف تو حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہو کر بڑی تڑپ کے ساتھ عرض کی کہ حضور ! آپ کو علم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب باہر تشریف لے جاتے تھے تو کس قدر مخلوق حضور کے گرد جمع ہو جاتی تھی۔اب یہ حضور کے صاحبزادے ہیں۔اتنا حفاظت کا انتظام تو ہم ان کے لئے کر نہیں سکتے۔جتنا حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے ہوا کرتا تھا مگر آپ کا یہ حال ہے کہ کسی معمولی سے معمولی انسان کی بھی اُن کے لئے درخواست آ جائے تو آپ انہیں فوراً بھیج دیتے ہیں۔ادھر ہمارا یہ حال ہے کہ جب تک یہ واپس نہ آجائیں ہم فکر کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں اور دوسری طرف حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہا کہ حضرت مولوی صاحب بے پروائی سے حضرت میاں صاحب کو معمولی معمولی آدمیوں کی درخواست پر باہر بھیج دیتے ہیں۔ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔اور ہمارے متعلق برے سے برے ارادے رکھتی ہے لہذا اس طرح حضرت میاں صاحب کو باہر بھیج دینا ہمارے خیال میں تو مناسب نہیں۔ہمیں بہت فکر رہتی ہے۔اس کا کوئی انتظام کرنا چاہئے۔اسکے ظاہر ہے کہ خواجہ صاحب کی نیت خواہ کئے ہو مگر یہ بات اپنے اندر ضر ور وزن رکھتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول نے بھی آپ کو باہر بھیجنے میں زیادہ احتیاط برتنی شروع کر دی۔بہر حال خواجہ صاحب کا مقصد حل ہو گیا اور انہوں نے بغیر کسی رکاوٹ کے جماعتوں میں جا کر لیکچر دینے شروع گئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی نیکی اور تقویٰ