حیاتِ نور

by Other Authors

Page 301 of 831

حیاتِ نور — Page 301

۲۹۹ الدین صاحب نے آپ پر چھتری سے سایہ کیا ہوا تھا۔حضور کچھ دیر ٹہلتے رہے اور پھر انہیں سیڑھیوں کے ذریعہ اوپر تشریف لے گئے۔میں بھی حضرت صاحب کے ساتھ چلا گیا۔اپنے مکان میں تشریف لا کر حضرت صاحب نے ایک الماری میں سے کچھ دوائیں نکالیں اور حضرت اماں جان کے دالان میں ہی زمین پر بیٹھ گئے۔اور ان دواؤں میں سے کچھ دوائیں نکال نکال کر کاغذ کے ٹکڑوں پر رکھنی شروع کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فکر مندی کو دیکھ کر حضرت اماں جان بھی آکر حضور کے پاس بیٹھ گئیں اور جیسے کوئی کسی کو تسلی دیتا ہے اس طرح سے آپ نے حضور سے کلام کرنا شروع کر دیا کہ جماعت کے بڑے بڑے عالم فوت ہو رہے ہیں، مولوی برہان الدین صاحب جہلمی فوت ہو گئے۔مولوی عبد الکریم صاحب بھی فوت ہو گئے۔خدا تعالیٰ مولوی صاحب کو صحت دے۔حضرت اماں جان کی یہ باتیں سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: " یہ شخص ہزار عبد الکریم کے برابر ہے''۔اتنی روایت بنا کر حضرت میر صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ملک صاحب ! اس فقرے کو یا درکھیں۔بالکل یہی الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے تھے۔خاکسار کے استفسار پر حضرت ملک صاحب موصوف نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ المسیح اول کی بیماری کا یہ واقعہ مانای 19ء کا ہے۔ملکی شورش سے الگ رہنے کی تلقین کے لئے جلسہ ۱۲ رمئی ۱۹۰۷ء تقسیم بنگال کے نتیجہ میں ہندوؤں نے ملک میں جو طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا۔جب اس نے ۱۹۰۷ ء میں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لی۔تو حضرت اقدس نے سے رمئی ۱۹۰۷ ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ اپنی جماعت کو اس سے الگ رہنے کی تلقین فرمائی۔ور اس سلسلہ میں ۱۲ مئی ۱۹۰۷ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی صدارت میں ایک جلسہ بھی کیا گیا۔جس میں حضرت مولوی صاحب نے قیام امن کے موضوع پر ایک نہایت ہی لطیف تقریر فرمائی۔جس میں بالخصوص اس امر کا ذکرفرمایا کہ اس حکومت میں سب سے زیادہ فائدہ ہندو