حیاتِ نور — Page 302
ــور قوم نے اٹھایا ہے۔ہر سال کروڑوں کی جاندار مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ہندوؤں کے قبضہ میں چلی جاتی ہے۔حکومت کی تمام کلیدی آسامیوں پر ہندو قابض ہیں اور مسلمانوں کے پاس صرف ادنی اونی ملازمتیں رہ گئی ہیں۔ان حالات میں ہندوؤں کو چاہیئے تھا کہ وہ اس گورنمنٹ کے سب سے زیادہ شکر گزار ہوتے۔مگر افسوس کہ انہوں نے سب سے زیادہ ناشکری کی اور کیوں نہ کرتے آخر مشرک جو ٹھہرے۔ایک مشرک جو اپنے حقیقی محسن خالق مالک کو چھوڑ کر ایک پتھر کے آگے سر جھکاتا ہے اس سے بھلا کب توقع ہو تی ہے کہ وہ انسان کے احسان کو شکریہ کے ساتھ دیکھے گا۔آئے حضرت خلیفہ امسیح الاول کا مذہب درباره مسئلہ کفر و اسلام د نبوت حضرت مسیح موعود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایک شخص نے بعض سوالات لکھ کر بھیجے۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ -1 کیا حضرت مسیح موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر برابر ہیں؟ لانبی بعدی کے کیا معنی ہیں؟ اگر نبی آ سکتا ہے تو ابوبکر وغیرہ نبی کیوں نہ بنے ؟ ان سوالات کے جواب میں جو چٹھی حضرت مولوی صاحب نے لکھی۔اس کا عکس اخبار الفضل پر چہ ۱۳ مگی ۱۹۱۷ء کے صفحات ۳ تا ۶ پر درج ہے۔خلاصہ جوابات حضور کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ ”میاں صاحب! رسولوں میں تفاضل تو ضرور ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ابتدا پاره تیسرا۔جب رسل میں مساوات نہ رہی تو ان کے انکار کی مساوات بھی آپ کے طرز پر نہ ہوگی۔تو آپ ایسا خیال فرمالیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے مسیح کا منکر جس فتویٰ کا مستحق ہے۔اس سے بڑھ کر خاتم الانبیاء کے مسیح کا منکر ہے۔صلوتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أجْمَعِين