حیاتِ نور

by Other Authors

Page 278 of 831

حیاتِ نور — Page 278

ور IZA جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ مولوی صاحب! یہ پلیڈر صاحب آپ سے تاریخ کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیج نے اپنی جیب سے دور د پے نکالے اور پلیڈر کے سامنے رکھ دیئے اور کہا کہ جناب! پہلے ان دونوں روپوں میں سے ایک روپیہ اُٹھا لیں۔بعد ازاں میں آپ سے بات کروں گا۔پلیڈ ر صاحب جو بحث کے لئے آئے تھے یہ دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔اور روپوں کو دیکھنا شروع کیا۔اسی حالت خاموشی میں آدھ گھنٹہ کے قریب گزر گیا۔حاضرین نے کہا کہ آپ دونوں صاحبان تو خاموشی کی زبان میں مباحثہ کر رہے ہیں۔ہم پاس یونہی بیٹھے ہیں۔اگر کچھ بولیں تو ہمیں بھی فائدہ ہو۔پلیڈر نے کہا کہ میں تو مشکل میں پھنس گیا ہوں۔اگر ان روپوں میں سے ایک اُٹھالوں تو یہ سوال کریں گے کہ تم نے دونوں میں سے یہ ایک کیوں اٹھایا دوسرے کو کیوں نہ اٹھایا یا ایک کو دوسرے پر بلا وجہ ترجیح کیوں دی۔اس اعتراض کے بعد تناسخ کی تائید میں میرا یہ اعتراض باطل ہو جائے گا کہ خدا نے ایک کو امیر اور ایک کو غریب کیوں بنایا۔یہ مجھ سے پوچھیں گے کہ تم ایک روپیہ کو اٹھا سکتے اور دوسرے کو چھوڑ سکتے ہو تو پھر خدا کیوں ایک کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا نہیں کر سکتا۔یہ کہہ کر پلیڈر نے رخصت چاہی اور کہا کہ وہ پھر کسی وقت آئیں گے مگر یہ وعدہ نہ پورا ہونا تھا نہ ہوا کے سفر سیالکوٹ ۲۷/اکتوبر ۱۹۰۴ء ۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے۔حضرت مولوی صاحب خلیفہ اسح الاول کو بھی ساتھ چلنے کا ارشاد فرمایا۔۲ نومبر ۱۹۰۳ ء کو ایک پبلک لیکچر کی تجویز ہوئی۔لیکچر کا موضوع تھا اسلام۔جب حضرت اقدس لیکچر گاہ میں پہنچے تو ہزار ہا لوگ جمع تھے۔اسٹیج پر حضرت اقدس کے ساتھ بزرگان ملت اور شہر کے بعض معززین بھی تشریف فرما تھے۔میاں فضل حسین صاحب بیرسٹر کی تحریک اور حاضرین کی تائید سے حضرت مولوی صاحب جلسہ کے صدر قرار پائے۔آپ نے ایک مختصر سی تقریر میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کی آیت لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِى أَصْحَابِ السَّعِيرِ میں جن لوگوں کی باتیں نہ سنے کی وجہ سے قیامت کے روز لوگوں کو یہ کہنا پڑے گا کہ کاش! ہم ان باتوں کو سنتے اور پھر عقل سے کام لے کر ان پر غور کرتے تو آج ہم دکھوں میں نہ پڑتے۔وہ اس قسم کے لوگ ہیں جس قسم کے انسان کا ابھی آپ لیکچر سنیں گے۔اس لئے تو جہ سے سنیئے اور اس پر عمل کیجئے۔۷۸