حیاتِ نور — Page 277
سارم ۲۷۷ ـور اور شفاعت سے اسے معجزانہ رنگ میں شفا ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک سفر لا ہور ۲۰ اگست ۱۹۰۴ء حضرت اقدس مقدمه کرم دین کی وجہ سے معہ اہل و عیال گورداسپور تشریف فرما تھے۔۱۸ اگست ۱۹۰ ء کی پیشی کے بعد 20 ستمبر کی تاریخ پڑی۔جماعت کے مسلسل اصرار کی وجہ سے درمیانی وقفہ سے فائدہ اُٹھا کر آپ ۲۰ اگست کو لاہور تشریف لے گئے۔حضرت مولوی صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو بھی طلب فرمالیا۔۲ ستمبر ۱۹۰۴ء کو جمعہ کی نماز حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب نے پڑھائی اور خطبہ میں سورۃ کوثر کی لطیف تفسیر فرمائی کہ جسے سن کر حاضرین عش عش کر اُٹھے۔اس سفر میں حضرت اقدس کی وہ مشہور و معروف تقریر سنائی گئی تھی جو لیکچر لاہور کے نام سے مشہور ہے اور جسے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ہر رہا افراد کی موجودگی میں منڈ وہ میلا رام میں پڑھ کر سنایا تھا۔اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کو اپنی جناب میں قبول فرمالیتا ہے تو زمین میں اس کی قبولیت پھیلا دی جاتی ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب لاہور پہنچ گئے تو س موقعہ پر اخبار البدر نے ایک نوٹ لکھا حضرت مولوی نورالدین صاحب کی شان میں عام طور پر غیر از جماعت لوگوں کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے کہ لو صاحب مرزے کا خلیفہ آ گیا۔اس کی اصل حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن ہم نے اس لئے ذکر کر دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کی رفعت چاہتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے تو کس طرح لوگوں کی زبان پر اس کا ذکر جاری کر دیتا ہے۔حضرت حکیم نورالدین صاحب کی تشریف آوری سے عوام الناس کو یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت اور ملاقات کے لئے جولوگ ڈانواڈول ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر پھر رہے تھے وہ دلجمعی سے آپ کے گرد حلقہ باندھ کر بیٹھ گئے اور اس شمع نوری کی روشنی میں اپنے متاع دین کے بکھرے ہوئے موتی بنورنے لگے۔نوری ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء کے خاموش مباحثه آپ کی آمد کی خبر سن کر کچھ آریہ بھی آپ سے ملنے کے لئے آئے۔جن میں سے ایک پلیڈ رتھا جس نے دعوی کیا تھا کہ مولوی صاحب کو میں چند منٹ میں تناسخ کے مسئلہ پر گفتگو کر کے ہرادوں گا۔