حیاتِ نور

by Other Authors

Page 6 of 831

حیاتِ نور — Page 6

حلال و حرام کی تمیز کا پیمانہ آپ فرماتے ہیں: ”میرے والد صاحب کو گھوڑی بھینس رکھنے کا بہت شوق تھا۔ایک آدمی کو کہا ہماری بھینسیں چرایا کرو مگر خود دودھ نہ لیا کرو ہم تمہیں خوب مزدوری دیں گے۔اُن کی عادت تھی کہ جس طرح ہمارے مدرسہ میں اتفاقیہ کبھی کبھی آ جایا کرتے تھے۔اسی طرح بھینس کی بھی خبر گیری کے واسطے کبھی کبھی آنکلتے تھے۔ایک دن اتفاقا آئے۔دیکھا کہ وہ دُودھ دوہ رہا ہے۔کہنے لگا کہ مجھے چور نہ سمجھیں۔میرا لڑکا مر گیا، آج جمعرات ہے اور لوگوں کا دودھ ھنگی تھا۔آپ کا حلال مال ہے۔اس واسطے میں نے اس کو دوہ لیا ہے کہ اس پر فاتحہ کہلواؤں۔ضلع شاہ پور کے جنگلیوں میں عام طور پر یہ رسم ہے کہ دودھ کے بارے میں شک اور حلال کے بارہ میں بہت فرق رکھتے ہیں۔جو گائے یا بھینس چوری کے ذریعہ سے اُن کے پاس آ جائے اس کی تمام پشتوں کی اولاد کو شک کا مال کہتے نہیں اور جو اس کے سوا ہو اس کو حلال۔یوں تو دونوں قسم کے مال مویشی سے ہی استفادہ کرتے رہتے ہیں مگر برتن جدا جد اہوتے ہیں گو پیٹ میں دونوں ہی جمع ہو جائیں۔نیز فاتحہ کہلانے کے واسطے اور پیروں فقیروں کو پلانے کے واسطے بھی حتی الوسع حلال کا دودھ مہیا کیا جاتا ہے۔چونکہ اس نواح کے لوگوں کا آبائی پیشہ عموما مال مویشی کی چوری تھا۔اس واسطے ان کی اصطلاح کے مطابق حلال دودھ مشکل سے ہی دستیاب ہوتا ہے۔گھر میں آ کر ہنسے کہ یہ بھی حلال کی ایک قسم نکالی ہے۔بچوں کی صحت اور اُنکی نشو ونما کا خیال اوپر کا واقعہ تو محض اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ تا قارئین کو اس زمانہ کے رسم و رواج کا بھی پتہ لگ جائے ورنہ اصل مقصود اس بیان سے یہ تھا کہ آپ کے والد ماجد کو اس امر کا بہت خیال رہتا تھا کہ بچوں کی صحت اچھی رہے اور نشوونما میں فرق نہ آنے پائے۔چنانچہ آپ اس غرض کے لئے بھینسیں رکھا کرتے تھے۔تا کہ نیچے دُودھ اور مکھن کھا کر جسمانی قوت اور نشوونما میں ترقی کریں۔ـور