حیاتِ نور

by Other Authors

Page 7 of 831

حیاتِ نور — Page 7

ـور آپ فرمایا کرتے تھے کہ ” میرے والد صاحب میرے سر پر ملائی کی ٹوپی بنا کر رکھا کرتے تھے تا کہ میرا دماغ ترو تازہ رہے اور پوری تقویت اور غذا اس کو حاصل ہو۔" مولوی سلطان احمد مولوی سلطان احمد آپ کے بڑے بھائی تھے اور ایک عالم شخص تھے۔انہوں نے آپ کی تعلیم و تربیت میں کافی دلچسپی لی تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ ان کا از حد احترام کرتے تھے۔آپ ان کے ایک وعظ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بھیرہ کی جامع مسجد میں میرے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب وعظ بیان فرما ر ہے تھے۔میری اس وقت بہت چھوٹی عمر تھی۔مجھ کو یاد ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں کسی موقعہ پر یہ حدیث پڑھی الدنيا جيفة وطالبها کلاب اور اس کا ترجمہ بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہاں بجائے کلاب کے غراب کیوں نہ فرمایا۔کو بھی تو مر دارخوار ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سکتے کو کتنی ہی بڑی مقدار میں اس کی ضرورت سے زیادہ مردار مل جائے۔پھر بھی وہ دوسرے گتے کو دیکھ کر غراتا ہے اور پاس نہیں آنے دیتا۔لیکن کوے میں یہ بات نہیں۔وہ مردار کو دیکھ کر شور مچاتا اور اپنے تمام ہم قوموں کو خبر کر دیتا ہے۔گئے میں قومی ہمدردی نہیں اور کوے میں ہمدردی اپنی قوم کی بہت ہے اس وجہ سے گتے کو زیادہ ذلیل ٹھہرایا گیا۔۱۲ مولوی سلطان احمد کا ذکر تو ضمناً آ گیا تھا۔بیان یہ کیا جا رہا تھا کہ آپ کے والد ماجد از حد علم دوست انسان تھے۔آپ کی علم دوستی کا ایک واقعہ حضرت مولوی صاحب اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ”ہمارے باپ علم کے بڑے ہی قدردان تھے۔جب ہماری سب سے بڑی بہن کی شادی ہوئی تو ہمارے باپ نے جہیز میں سب سے اوپر قرآن شریف رکھ دیا اور کہا کہ ہماری طرف سے یہی ہے۔اس قرآن شریف کا کاغذ حریری باریک، بڑی محنت اور صرف زر سے میسر ہوا تھا۔جلال پور جٹاں کے مولوی نور احمد صاحب نے سو روپیہ میں صرف لکھ کر دیا۔جدول، رول، آیتیں بنانا ، رنگ بھرنا ہونے کا پانی پھیرنا وغیرہ علاوہ ۱۳۰