حیاتِ نور

by Other Authors

Page 178 of 831

حیاتِ نور — Page 178

۱۷۸ فيما اقام الله ضروری ہے۔“ ملازمت سے علیحدگی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راجہ سورج کول نے مہاراج سے ساز باز کر کے آپ کو ملازمت سے علیحدہ کرنے پر راضی کر لیا تھا اور اپنے ساتھی باگ رام سے بھی اس کا ذکر کر دیا تھا۔جس نے از راہ خیر خواہی آپ سے عرض کی کہ اگر آپ استعفیٰ دے دیں۔تو بہتر ہو گا۔مگر آپ نے شریعت کے حکم کو مقدم سمجھا۔بہر حال چونکہ فیصلہ ہو چکا تھا۔اس لئے ایک روز آپ کی علیحدگی کا پروانہ آ گیا۔ایک وجہ اور بھی تھی۔جس کے باعث مہاراج کو آپ سے پر خاش تھی اور وہ یہ کہ مہاراج کو اپنے چھوٹے بھائی سے کدورت تھی اور آپ کے اس کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔اس لئے راجہ سورج کول کو مہاراجہ کے اکسانے کا اور بھی موقعہ مل گیا۔چنانچہ حضرت اقدس کے سوانح نگار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے لکھا ہے: حضرت حکیم الامت اور مولوی محرم علی چشتی مرحوم پر ایک سیاسی الزام آپ کے دشمنوں نے لگایا تھا۔راجہ امر سنگھ صاحب کو ( جو موجودہ صدر ریاست جموں و کشمیر کے دادا تھے ) حضرت حکیم الامت سے بہت محبت تھی اور وہ آپ کی عملی زندگی اور صداقت پسندی کا عاشق تھا اور وہ ایک مدبر اور صائب الرائے نو جوان تھا۔وہ سیاسی جماعت جو مہا راجہ پرتاپ سنگھ کی حالت سے واقف اور اُن پر قابو یافتہ تھی۔انہیں یہ شبہ تھا کہ کسی بھی وقت مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو معزول کر دیا جائے گا۔اور اس کی جگہ مہا راجہ امر سنگھ ہو جائیں گے۔یہ دراصل سیاسی اور اقتداری جنگ تھی اور اس کو مذہب کا رنگ دیا گیا کہ حضرت مولوی صاحب راجہ امر سنگھ کو جب وہ مہاراجہ ہو جائیں گے، مسلمان کر لیں گے۔اس قسم کی سازش کر کے آپ کو اور مولوی محرم علی چشتی کو جموں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ہے حضرت شیخ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ حضرت اقدس کو جب آپ نے اس واقعہ کی اطلاع دی۔تو حضور نے مندرجہ ذیل گرامی نامہ حضرت مولوی صاحب کو لکھا: مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب مسلمه تعالی السلام عليكم ورحمتہ اللہ و برکاته کل کی ڈاک میں آئمکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے