حیاتِ نور

by Other Authors

Page 177 of 831

حیاتِ نور — Page 177

ـور 166 آدمیوں پر بات ٹھہری کہ یہ تمام سازش کے بانی اور محرک ہیں اور ان میں بھی ایک وہی آپ کا شاگرد تھا۔اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں ان پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا تھا۔اگر یہ چاہتے تو مجھے کو سو روپیہ سے زیادہ کی نوکری دلوا سکتے تھے۔اس پر اس بڑے آدمی نے کہا کہ یہ سو روپیہ کی نوکری تو تمہیں انہیں کی بدولت ملی ہے ورنہ تم سو روپیہ کے قابل ہر گز نہیں تھے۔اس پر وہ سخت لا جواب اور دم بخود ہو کر رہ گیا۔اس پر آپ نے یہ فرما کر درگزر سے کام لیا کہ میں تو تم سب کے حو صلے دیکھتا تھا۔بے ریاست کی ملازمت سے علیحدگی کے اسباب ریاست میں ایک شخص راجہ سورج کول نام وہاں کی کونسل کے سینئر ممبر تھے۔اُن کے گردے میں مدت سے درد تھا۔آپ سے انہوں نے علاج کروانا چاہا۔آپ کی تشخیص میں ان کے گردے میں پتھری ثابت ہوئی۔چنانچہ آپ نے انہیں بے تکلفی سے اپنی تشخیص سے آگاہ کر دیا۔اس پر انہوں نے سخت ناراض ہو کر کہا کہ " کیا آپ جانتے نہیں کہ سات انگریز میرے ماتحت رہے ہیں۔آپ نے فرمایا انگریزوں کے ماتحت رہنے سے گردے کی پتھری نہیں رک سکتی۔پھر انہوں نے کہا ”میرا ایک بیٹا ڈاکٹر ہے۔آپ نے فرمایا کہ بیٹے کے ڈاکٹر ہونے سے بھی باپ کی پتھری نہیں رک سکتی۔اس پر وہ بہت ہی ناراض ہو گئے۔کچھ مدت کے بعد پیر کی نام ایک انگریز ڈاکٹر جو لاہور میڈیکل کالج میں پروفیسر تھا ، وہاں گیا۔اور مہاراج نے ان راجہ صاحب کے درد گردہ کا ذکر کیا اور تاکید کی کہ آپ ضرور علاج کریں۔ڈاکٹر نے ان کو جا کر دیکھا۔اور فکر کرنے لگا۔اتنے میں راجہ صاحب نے کہا کہ ایک دیسی طبیب نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ تمہارے گروہ میں پتھری ہے۔یہ سنتے ہی انگریز نے دوسرے انگریز کو کہا کہ فورا گر دے کو چیر دو۔اس انگریز نے شگاف دیا۔مگر پتھری نظر نہ آئی۔اس پر پیری صاحب نے نشتر خود ہاتھ میں لیا اور شگاف کو وسیع کیا تو گردے کی نالی کے پاس پتھری نظر آئی۔اس کو نکالا اور بہت بڑی خوشی کی۔اور آپ کے متعلق بھی جو کچھ اُن سے بن پڑا بہت تعریفی کلمات کہے۔راجہ صاحب نے پھر آپ کو بلایا۔مگر آپ نے اس مرتبہ جانا پسند نہ فرمایا۔اس پر وہ پھر ناراض ہو گئے۔آپ فرماتے ہیں: گو مجھے پورا علم نہیں ہے مگر قرائن قویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پھر میرا وہاں رہنا اور مجھے کو دیکھنا پسند نہ کیا۔اسکے کونسل کے ایک دوسرے ممبر باگ رام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ مولوی صاحب ! بہتر ہے کہ آپ ملازمت سے استعفیٰ دیدیں اس میں بڑے مصالح ہیں۔مگر آپ نے فرمایا کہ بنے ہوئے روزگار کو خود چھوڑنا ہماری شریعت میں پسند نہیں کیا گیا۔الاقامة "