حیاتِ نور — Page 179
ور 129 پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی مگر ساتھ ہی دل پھر کھل گیا۔یہ خداوند حکیم و کریم کی طرف سے ایک ابتلا ہے۔انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں۔اللہ جل شانہ کی پیار کی قسموں میں سے یہ بھی ایک قسم پیار کی ہے کہ اپنے بندے پر کوئی ابتلا نازل کرے۔مجھے تین چار روز ہوئے ایک متوحش خواب آئی تھی جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچاتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہو گیا۔میں نے جس قدر آنمکزم کے لئے دعا کی اور جس حالت پر سوز میں دعا کی ، اس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے اور اس پر ابھی بفضلہ تعالٰی بس نہیں کرتا اور چاہتا ہوں کہ خداوند کریم سے کوئی بات دل کو خوش کرنے والی سنوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو چند روز تک اطلاع دوں گا اور انشاء اللہ القدیر آپ کے لئے دعا کروں گا جو کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک یگانہ رفیق کے لئے کی جاتی ہے۔ہمیں جو ہمارا بادشاہ ہمارا حاکم ذوی الاقتد ارزنده چی و قیوم موجود ہے۔جس کے آستانہ پر ہم گرے ہوئے ہیں۔جس قدر اس کی مہربانیوں ، اس کے فضل، اس کی عجیب قدرتوں، اس کی عنایات خاصہ پر بھروسہ ہے، اس کا بیان کرنا غیر ممکن ہے۔دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجاب اللہ زبان پر جاری ہوئے۔لوی علیہ (زد) لا ولی علیہ۔اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا اور اسی کی طرف سے تھا۔آج رات ایک خواب دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ لڑکے کہتے ہیں کہ عید کل نہیں پرسوں ہوگی۔معلوم نہیں ، کل اور پرسوں کی کیا تعبیر ہے۔معلوم نہیں۔کہ ایسا پر اشتعال حکم کس اشتعال کی وجہ سے دیا گیا ہے۔کیا بد قسمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم، نیک بخت اور بچے خیر خواہ نکالے جائیں اور معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے۔حالات سے مجھے بہت جلد اطلاع بخشیں اور یہ عاجز انشاء اللہ ثمرات ہینہ دعا سے اطلاع دے گا۔بفضلہ و منہ تعالیٰ۔مجھے فصیح " کی نسبت خشی غلام تا در صاحب نبی یا کوئی حضرت خلیفہ اسمع الاول کے ہم زلف تھے۔