حیاتِ نور

by Other Authors

Page 117 of 831

حیاتِ نور — Page 117

112 کی ہے اور وہ یہ ہے لَا يَمَسَّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ۔غرض یہ تو ایک پہلا بیج تھا جو ة میرے دل میں بویا گیا اور حضرت مرزا صاحب کی سادگی جواب اور وسعت اخلاق اور طرز ادا نے میرے دل میں ایک خاص اثر کیا ہے چنانچہ آپ نے اس پہلی ملاقات میں ہی حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میری بیعت نے لیں۔آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اس معاملہ میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔اس پر حضرت مولانا نے عرض کیا کہ پھر حضور وعدہ فرما ئیں کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم آجائے۔سب سے پہلے میری بیعت لی جائے۔آپ نے فرمایا۔ٹھیک ہے۔انشاء اللہ آپ ہی کو پہلے بیعت کرنے کا موقعہ دیا جائے گا۔اس کے بعد آپ واپس جموں تشریف لے گئے اور پھر خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔جس کے نتیجہ میں ایسے گہرے تعلقات پیدا ہو گئے کہ حضور ہرا ہم معاملہ میں حضرت مولانا صاحب کو برابر اطلاع فرماتے رہے اور آپ نے بھی انصار دین میں وہ نام اور مقام پیدا کیا کہ خود خدا کے برگزیدہ مسیح موعود نے اس امر کی خواہش کی کہ کاش اس امت مرحومہ کا ہر فردنور الدین کا مقام حاصل کر لیتا۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے! ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے اسی طرح حضور نے آپ کی تعریف میں لکھا ہے: وہ ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس کے لبوں پر حکمت بہتی ہے اور آسمان کے نو ر اس کے پاس نازل ہوتے ہیں اور جب بھی وہ کتاب اللہ کی تاویل کی طرف توجہ کرتا ہے تو اسرار کے منبع کھولتا ہے اور لطائف کے چشمے بہاتا ہے اور عجیب و غریب معارف ظاہر کرتا ہے جو پردوں کے نیچے ہوتے ہیں۔دقائق کے ذرات کی تدقیق کرتا ہے اور حقائق کی جڑوں تک پہنچ کر کھلا کھلا نور لاتا ہے۔عقلمند اس کی تقریر کے وقت اس کے کلام کے اعجاز اور عجیب تاثیر کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ اس کی طرف اپنی گردنوں کو لمبا کرتے ہیں۔حق کو سونے کے ڈلے کی طرح دکھاتا ہے اور مخالفین کے اعتراضات کو جڑھ سے اکھیڑ دیتا ہے۔۔۔اور سب حمد