حیاتِ نور

by Other Authors

Page 84 of 831

حیاتِ نور — Page 84

۸۴ محسن بھائی کی خاطر مکان خالی کر دیا اب ایک مشکل یہ پیش آئی کہ جس مکان میں آپ نے مطلب شروع کیا تھا اور جو بڑا وسیع اور مطلب کے لئے موزوں بھی تھا۔اس کے متعلق آپ کے والد صاحب کی وفات کے تھوڑے دنوں بعد آپ کے ایک بھائی نے جس نے آپ پر بڑے بڑے احسان کئے تھے یہ فرمایا کہ یہ مکان میرے پیہ سے لیا گیا اور میرے ہی روپیہ سے درست کیا گیا۔لہذا تم اس قدر لکھ دو کہ یہ مکان میرے بھائی کا ہے۔آپ تو دل و جان سے اس بھائی پر قربان تھے۔آپ نے نہ صرف اُن کے حسب منشا تحریر کردی بلکہ فورا شاگردوں کو کہا کہ یہاں سے تمام دوائیں اُٹھا کر فلاں مسجد کے حجرہ میں رکھ دو۔اس وقت مکان کا خالی کرنا آپ کے لئے سخت مشکل تھا۔کیونکہ ان ایام میں آپ کے پاس نئی جگہ کام چلانے کے لئے روپیہ بالکل نہ تھا۔لیکن آپ یہ چاہتے تھے کہ اپنے محسن بھائی کے دل میں ذرا بھی کدورت پیدا نہ ہو۔سرکاری زمین میں مکان کی تعمیر اب آپ کو مکان کی سخت ضرورت تھی۔ساتھ ہی ٹاؤن کمیٹی کی کچھ زمین خالی پڑی تھی۔آپ نے اپنے ایک مستری دوست کو کہا کہ تم اس زمین پر مکان بناؤ اور ایک ہندو سے کہا تم رو پی دیدو۔چنانچہ مکان بننا شروع ہو گیا۔منصب دار خاں صاحب تحصیلدار جو ضلع راولپنڈی کے باشندہ اور بھیرہ میں متعین تھے۔انہوں نے آپ کو کہلا بھیجا کہ اول تو کوئی مکان بلا اجازت اور بغیر نقشہ منظور کرائے بنانا جائز نہیں دوسرے یہ کہ سرکاری زمین میں مکان بنانا قانون کے بھی خلاف ہے۔میں بسبب ادب کے کچھ نہیں کہہ سکا۔مگر ہاں یہ بتائے دیتا ہوں کہ کمیٹی بھی اگر چہ بہ سبب ادب کے کچھ نہیں کہہ سکی لیکن انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ کر دی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بنا بنایا مکان گرا دیا جائے گا۔آپ فرماتے ہیں: ” میرے مستری دوست نے بھی یہی کہا۔مگر چونکہ میرا دل انشراح صدر سے یہی کہتا تھا کہ مکان ضرور بنے گا۔اس لئے میں نے کہا کہ تم اپنا کام کئے جاؤ“۔خیر ڈ پٹی کمشنر کو جب رپورٹ پہنچی تو انہوں نے لکھا کہ ہم بہت جلد وہاں آنے والے ہیں۔خود ہی آکر موقع کا ملاحظہ کریں گے۔چنانچہ ڈپٹی کمشنر صاحب تشریف لائے اور بعد ملاحظہ فرمایا کہ جس قدر مکان بن چکا ہے وہ تو ابھی رہنے دو۔باقی کی تعمیر کا کام روک دو۔آپ فرماتے ہیں: ـور