حیاتِ نور — Page 85
۸۵ > میں بھی اس وقت قریب کے مکان میں موجود تھا۔ڈپٹی کمشنر کے تشریف لانے کی خبر سُن کر وہاں گیا تو ڈپٹی کمشنر صاحب وہاں سے چلے گئے تھے۔اور بہت سے قدم آگے نکل گئے تھے۔مجھے کو آتا دیکھ کر شاید ان کے ہمراہی لوگوں میں سے کسی نے کہا ہوگا کہ مکان بنانے والا آ گیا ہے۔وہ پھر واپس آئے اور ان کو واپس ہوتے دیکھ کر میرے دل نے کہا کہ حکم لوٹ گیا۔جب وہ آگئے تو مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم جانتے ہو یہ سرکاری زمین ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں ! مگر سارا شہر ہی سرکاری زمین ہے۔انہوں نے فرمایا کہ وہ کس طرح؟ میں نے کہا کہ اگر سر کار کو اس شہر کے مقام پر فوجی میدان بنانا پڑے تو کیا شہر کے لوگ انکار کر سکتے ہیں؟ کہا ہاں ! نہیں کر سکتے میں نے کہا۔بس اسی طرح ہر جگہ سرکاری ہی کہلاتی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ اچھا آپ کا مکان سرکاری زمین کے کتنے حصہ میں بن سکتا ہے۔میں نے کہا کہ ایک طرف تو سڑک ہے۔دوسری طرف بھی شارع عام ہے۔اس کے درمیان جتنی زمین ہے اس میں مکان بن سکتا ہے۔فرمایا کہ اچھا۔ابھی میخیں گاڑ دو۔چنانچہ میخیں گاڑ دی گئیں۔پھر تحصیلدار اور میونسپلٹی کے لوگوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کوئی اعتراض ہے؟ انہوں نے کہا ان کا مکان تو نافع عام ہوتا ہے۔ہم کو کوئی اعتراض نہیں۔مجھ سے فرمایا کہ اچھا آپ اپنا مکان بنا ئیں۔جب وہ چلے گئے تو تحصیلدار نے میرے پاس آ کر کہا کہ یہ تو سکھا شاہی فیصلہ ہوا ہے کیونکہ ڈپٹی کمشنر کو خود بھی اختیار اس طرح سرکاری زمین دینے کا نہیں ہے۔میں نے اُن سے کہا کہ آپ خاموش رہیں۔بہت دُور جا کر ڈپٹی کمشنر پھر واپس آئے اور مجھ سے فرمایا کہ سڑک کے ساتھ ساتھ بدرو ہے آپ کو اس کے سبب سے بہت تکلیف پہنچے گی۔میں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ انگریز بہت عقلمند ہوتے ہیں۔آپ ہی کوئی تدبیر بتائیں۔کہا میں نے تدبیر یہ سوچی ہے کہ سرکار کی طرف سے آپ کے مکان کا پتہ کمیٹی بنادے۔پھر کمیٹی والوں سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔وہ تحصیلدار مجھ سے کہنے لگا کہ یہ ایک ہزار روپیہ اور ہم پر جرمانہ ہوا۔میں نے ان سے کہا کہ تم ان باتوں کو کیا سمجھ سکتے ہو۔