حیاتِ نور — Page 83
AF بھی تھیں۔آپ نے اس قسم کے سب آدمیوں سے اس کا تذکرہ کیا۔لیکن کچھ پتہ نہ چلا کہ کتا ہیں کس نے بھجوائیں اور کیوں بھیجوائیں ؟ آپ نے ایک مرتبہ ایک امیر آدمی کے سامنے بھی تذکرہ کیا۔اس نے کہا گو میں آپ کا ہم خیال نہیں ہوں لیکن آپ کی وہ انا للہ مجھ کو کھا گئی۔اس کتاب کے پشاور ہونے کا مجھ کو علم تھا۔میں نے اپنے آدمی کو لکھا کہ خرید کر آپ کے نام روانہ کر دے۔" دوسرے کی تحقیر کرنے والا خود بھی ذلیل ہوتا ایک مرتبہ آپ نے میانی سے پنڈ دادنخاں آتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا کہ دریا میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنا تہ بند سر پر کھول کر رکھ لیا اور نگا ہو کر چلنے لگا۔ایک دوسرے شخص نے اس کو بڑی ہی لعنت ملامت کی۔مگر جب خود دریا میں داخل ہوا تو ہوں ہوں پانی گہرا آتا گیا وہ بھی اپنا تہہ بند او پر کو اُٹھاتا گیا۔جب اس نے دیکھا کہ پانی تو شاید ناف تک آ جائے گا تو اس نے بھی اپنا تہ بند کھول کر سر پر رکھ لیا۔اور پہلے شخص کی طرح بالکل ننگا ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں: اس وقت میری سمجھ میں یہ نکتہ آیا کہ جو شخص کسی دوسرے کی تحقیر کرتا ہے وہ خود بھی اسی قسم کی ذلت اٹھاتا ہے۔اگر وہ دوسرا شخص کپڑے کے بھیگنے کی پرواہ نہ کرتا اور نگا نہ ہوتا۔تو کوئی بڑے نقصان کی بات نہ تھی لیکن جس بات کے لئے اس نے دوسرے کی تحقیر کی تھی۔اس کا مرتکب اس کو بھی ہونا پڑا۔کلا بھیرہ میں مطب کا قیام بھیرہ میں آپ نے ایک طبیب سے مشورہ کیا کہ میں یہاں طلب کرنا چاہتا ہوں اس بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس طبیب نے کہا۔یہاں آپ کا کام چلنا مشکل ہے۔میں جو مانگ لیتا ہوں۔مجھے بھی اس شہر میں پانچ روپیہ سے زیادہ آمدنی نہیں ہوتی اور آپ کو تو مفت دوا دینے کی عادت ہے۔پھر آپ کے علاج کا جو طریق ہے اس کی وجہ سے عطار اور جراح بھی آپ کی مخالفت کریں گے اور علماء تو مخالف ہیں ہی لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنا کام شروع کر دیا۔سب سے پہلے آپ نے ایک طالب علم سے ایک سُرمہ تیار کروایا۔جس کے اجزاء یہ تھے۔جست ۲۰ ماشد، سرمه سیاہ ۲۰ ماشہ، زنگار ۳ ماشه، سفیده کاشغری ۴ ماشه، افیون ۳ ماشہ، سمندر جھاگ ۴ ماشہ۔یہ سُرمہ بڑا مفید ثابت ہوا اور آپ کا کام چل نکلا۔