حیاتِ ناصر — Page 76
حیات ناصر 76 قدرت ثانی کے لئے دعاؤں کا التزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ خلیفہ المسح منتخب ہو گئے تو آپ نے جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الوصیت کے ماتحت اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ جماعت کو مل کر قدرت ثانی کے لئے دعا کرنی چاہیئے جیسا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو اور چاہیئے کہ ہر ایک جگہ صالحین کی جماعت ہر ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا کہ دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو۔“ حضرت خلیفہ امسیح اول نے جماعت کے لئے اس مضمون پر ایک خاص اعلان کے شائع کرنے کا حکم دیا اور سلسلہ کے اخبارات نے اُسے شائع کیا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ پہلے اور اکیلے بزرگ یہاں قادیان میں تھے جنہوں نے مل کر دعا کرنے کی تحریک کو یہاں عملی صورت دی۔وہ ہر روز بعد مغرب اس مقصد کے لئے لمبی دعا کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک برابر جاری رہا۔میں خود ان دعاؤں میں شریک ہوتا تھا اور آج تک اس لطف کو محسوس کرتا ہوں۔قدرت ثانی کے لئے دعائیں ہوتی رہیں اور بطور عملی محرک کے حضرت میر صاحب قبلہ اس کے لیڈر تھے۔خلافت ثانیہ کے وقت خدمات حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت جماعت میں ایک انقلاب عظم اور زلزلہ شدید پیدا ہوا۔جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں حضرت میر صاحب پر سلسلہ میں داخل ہونے کے بعد کبھی ابتلاء آیا ہی نہیں۔وہ جب تک سلسلہ سے الگ رہے اور انہوں نے اس سے دیانت داری کے ساتھ اختلاف کیا وہ مخالف رہے اور اپنے اختلاف کا اظہار بھی کرتے رہے۔لیکن جب انہوں نے سلسلہ حقہ کو قبول کر لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست حق پرست پر بیعت کرلی تو پھر بھی آپ کو کوئی ابتلا نہیں آیا اور آپ کا قدم آگے ہی اٹھتا گیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات پر وہ لوگ جو سلسلہ میں بطور عمود اورستون کے لئے بعض حالات کے ماتحت مخالف ہوئے اور انہوں نے علیحدگی اختیار کی اور جماعت میں تفرقہ اور غدر خلافت کا ارتکاب کیا اس وقت جماعت عجیب حالت میں تھی اور یہاں خزانہ انجمن کی حالت خزانہ حمام سے زیادہ نہ تھی۔حضرت میر صاحب