حیاتِ ناصر — Page 77
حیات ناصر 77 قبلہ نے فوراً ایک رقم حضرت خلیفہ ثانی کے حضور پیش کی اور اس پیرانہ سالی میں جماعت کو تفرقہ سے بچانے کے لئے انہوں نے ایک لمبا سفر مدراس تک کیا اور اصل حالات سے لوگوں کو واقف کیا۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب رضی اللہ عنہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیارے اور اخص مخلص احباب میں سے تھے اور صد را مجمن احمد یہ کے ٹرسٹی تھے ان کو اصل واقعات اور حالات سے آگاہ کیا۔انہوں نے فور ابذریعہ تار حضرت خلیفہ المسیح ثانی کی بیعت کی۔غرض ایک لمبا سفر کر کے لوگوں کو ٹھوکر سے بچایا۔یہ بہت بڑا کارنامہ حضرت میر صاحب کا ہے۔مجھے افسوس سے یہ ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ نادان مخالفین اور منکرین خلافت نے حضرت میر صاحب اور خاکسار عرفانی کو خلافت ثانیہ کے قیام و انتخاب کے متعلق پوری طرح بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اسے منصوبہ کہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اور نہاں در نہاں حالات آئندہ کے واقعات کا بھی علیم ہے جانتا ہے کہ ہم نے کبھی اس معاملہ میں نہ کوئی سازش کی اور نہ منصوبہ۔حضرت میر صاحب کی زندگی اس پر گواہ ہے۔وہ منصوبہ کرنا جانتے ہی نہیں تھے خوشامد اور یار فروشی ان کو آتی ہی نہ تھی۔وہ ایک حنیف اور مسلم بزرگ تھے جب تک انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو سمجھ نہیں لیا قبول نہیں کیا اور جب قبول کر لیا تو پھر تمام دوستوں ، عزیزوں ، رشتہ داروں کو اس عہد پر قربان کرنے میں انہوں نے کبھی پس و پیش نہیں کیا۔اگر مسئلہ خلافت میں وہ حق پر نہ ہوتے تو کوئی چیز ان کو اس سے اختلاف کرنے میں روک نہ سکتی تھی اور کسی کی رشتہ داری اثر نہیں ڈال سکتی تھی لیکن انہوں نے یہی سمجھا اور صحیح سمجھا کہ خلافت احمد یہ خلافت حقہ ہے اور وہ اس کی تائید میں ہر طرح لگے رہے اور کسی دوست کو قربان کرنے میں پھر مضائقہ نہ کیا۔بہر حال حضرت میر صاحب قبلہ نے خلافت ثانیہ کی تائید میں ہر ایک قسم کی قربانی کو وسعت حوصلہ سے قبول فرمایا اور اس کے لئے تیار رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی اشاعت کے لئے جوش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کی اشاعت کا بھی بہت بڑا جوش وہ اپنے دل میں رکھتے تھے اور انہوں نے مختلف اوقات میں جماعت میں تحریک کی کہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو خریدیں اور پڑھیں اور اس کے لئے وہ جہاں جاتے دوستوں میں تحریک کرتے۔یہ راز انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ جماعت میں