حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 75 of 104

حیاتِ ناصر — Page 75

حیات ناصر 75 قرآن مجید کا ایک عام درس دیا کرتے ہیں اور کتاب اللہ کی حقیقت اور غرض سے مخلوق کو آگاہ فرماتے ہیں یہ درس علی العموم مسجد اقصیٰ میں ہوا کرتا ہے مگر حضرت خلیفتہ اسی چاہتے ہیں کہ ایک خاص کمرہ اس مقصد کے لئے بنایا جاوے جہاں قرآن مجید کا درس ہوا کرے۔اس کمرہ کے لئے حضرت ام المومنین نے ایک حصہ زمین کا ضرورتاً عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے لیکن چونکہ وہ زمین پستی میں ہے اس کو عمارت کی سطح تک لانے کے واسطے ایک معقول خرچ کی ضرورت ہوگی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ دار القرآن در اصل مدرسہ تعلیم القرآن کا مقدمہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح کی دیرینہ خواہش ہے کہ قرآن مجید کے نہایت اعلیٰ معلم موصل وغیرہ سے منگوائے جائیں۔اس وقت تک ہر چند یہاں قرآن مجید کی تعلیم وتدریس کی طرف توجہ ہے لیکن پھر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔حفظ قرآن اور تعلیم قرآت کا کوئی انتظام نہیں۔احکم میں پچھلے دنوں میں نے حضرت خلیفہ مسیح کو اس ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی تھی۔خدا کا شکر ہے کہ یہ خواہش اس رنگ میں پوری ہونے لگی ہے۔حضرت خلیفہ امسیح نے حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ کو یہ خدمت سپرد کی ہے کہ وہ اس دار القرآن کی تعمیر کا کام شروع کر دیں۔اس کے لئے کم از کم دس ہزار روپیہ بگار ہوگا مگر اس قوم کے لئے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد دومرتبہ کر چکی ہے اور جس نے خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا عہد حضرت خلیفہ مسیح کے ہاتھ پر کیا ہے اس رقم کا پورا کر دینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔چندہ کی فہرست کھول دی گئی ہے ایڈیٹر احکام چاہتا ہے کہ اس کے ناظرین اس کارخیر میں کم از کم اڑھائی ہزار جمع کر دیں اور یہ رقم خریداران الحکم کی طرف سے دار القرآن کے لئے دیجاوے۔ایسے پاک اور خالص دینی اغراض کے لئے کونسا دل ہے جس میں جوش پیدا نہیں ہوگا۔یہ ضرورت ایسی ضرورت نہیں کہ بار بار تحریکوں کی حاجت ہو۔میری دانست میں دار القرآن مدرستہ القرآن کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر تعمیر ہونا چاہیئے جو جہاں ایک بڑے ہال کا کام دے سکے وہاں ایک مدرسہ کے مختلف حصوں کا کام بھی دے۔بہر حال یہ امور بعد میں قابل غور ہوں گے سر دست روپیہ کی ضرورت ہے۔احمدی قوم خدمت قرآن کریم کے لئے بیش از پیش تیار ہوگی یہ مختصر اطلاع انہیں تحریک کرے گی کہ وہ بہت جلد اس رقم کو پورا کر دیں۔اس مقصد کے لئے کل روپیہ حضرت اور یہ میر ناصر نواب صاحب قبلہ کے نام آنا چاہیئے اور کو پن پر تعمیر دارالقرآن لکھ دینا ضروری ہوگا۔حیات ناصر کی اشاعت کے وقت الحمد للہ مدرستہ الحفاظ جاری ہو چکا ہے عرفانی