حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 39 of 104

حیاتِ ناصر — Page 39

حیات ناصر 39 اسلام کو بدنما بناتی رہی ہے اگر چہ درمیانی زمانوں میں مصلح اور مجدد آئے لیکن اصلاح خاص اور مقامی اصلاح تھی اور کمز ور تھی جس کا اثر تھوڑی مدت میں زائل ہوتا رہا اور خرابیاں روز افزوں ہوتی گئیں یہاں تک کہ تیرھویں صدی میں رہی سہی برکت اسلام کی اور شوکت مسلمانوں کی جاتی رہی اور اسلام جان کندن تک پہنچ گیا۔تب اللہ تعالیٰ نے بموجب اپنے وعدہ اور اپنے رسول کی اطلاع کے ہمارے مسیح اور مہدی کو دنیا میں نازل فرمایا اور اس نے بحکم الہی تجدید اسلام کا بیڑا اٹھایا۔اب اسلام نیا اسلام لوگوں کو نظر آنے لگا جیسا کہ ایک جاں بلب مدت کا بیمار اچھا ہو کر اور تو انا ہوکر نیا آدمی معلوم ہوتا ہے گو کہ اصل میں وہی پرانا شخص ہوتا ہے جس نے نئی زندگی حاصل کی ہوئی ہوتی ہے۔ہمارا سلام وہی پرانا اسلام ہے لیکن بسبب اس کے کہ پرانا اسلام اُٹھ گیا تھا اور ریا پر چلا گیا تھا اور ہمارے امام اسے ثریا سے پھرا تار کر لائے ہیں اب وہ نیا اسلام کہلانے کا بھی مستحق ہے۔با وصفیہ کلام الہی قدیم ہے لیکن جب رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر اتر اتو اس اُترنے کو نیا خود قرآن شریف نے فرمایا۔جب محدث صفت قرآن ہے تو ہمارے فرقہ کو محدث یعنی نیا فرقہ کہلانا فخر ہے نہ عیب۔پرانے عقائد کو علماء نے رفتہ رفتہ بگاڑ دیا تھا ہمارے امام نے نئے طور پر انہی عقائد کو اصلاح کر کے پیش کیا ہے۔ایک طرح و ہی پرانا اسلام ہے اور دوسری طرف بے شک نیا بھی ہے۔یوں سمجھو کہ اس پرانے اسلام پر نئی قلعی کر دی ہے جس کو تم نے میلا کر دیا تھا۔ابھی تسلی ہوئی یا نہیں۔قولک۔جب کوئی ایسی بات ہوتی ہے کہ آپ کے امام کو جواب نہیں آتا تو حکام کی طرف التجاء کی جاتی ہے۔اقول۔مارتے کے ہاتھ پکڑے جاتے ہیں لیکن جھوٹے کی زبان نہیں پکڑی جاتی۔آج تک کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ مولویوں نے کوئی دینی سوال کیا ہو اور ہمارے امام کو جواب نہ آیا ہو اور پھر سر کار میں عرضی دی ہو کہ سر کار مجھے جواب نہیں آتا گورنمنٹ کوئی معقول جواب ان مولویوں کو میری طرف سے دے۔یہ کام تو پادری بھی نہیں کرتے جو خود گورنمنٹ کے ہم مذہب ہیں۔ایسی خام با تیں آپ جیسے خام خیالوں کو سو جھتی ہیں اگر یہ کہو کہ بعض بدمعاشوں کی ہمارے امام نے گورنمنٹ میں شکایت کی تو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔انتظام کے معاملہ میں کسی مفسد ، ڈاکو یا شریروں کے حال سے سرکار کو اطلاع دے کر حفاظت طلب کرنا دینی دنیوی قانون کے برخلاف نہیں۔اگر کوئی شخص کسی چور کو اپنے یا کسی متمول شخص کے مکان کے گرد پھرتا دیکھے اور احتمال ہو کہ نقب زنی کے ارادے سے تاڑتا ہے تو اگر پولیس میں رپورٹ کر دے تو کیا حرج۔یہ تمہارے نزدیک تو کل کے برخلاف ہے یا اس میں علمی کمزوری پائی جاتی ہے۔یہ تو ظاہری انتظام ہے اور دور اندیشی میں داخل ہے البتہ یہ باتیں جب تمہیں پھبتی تھیں کہ ہمارے امام کے دعاوی اور دلائل کو عقل اور نقل سے رڈ کر دیتے اور وہ تم سے عاجز ہو جاتے اور ان سے کچھ