حیاتِ ناصر — Page 40
حیات ناصر 40 نہ بنتا اور وہ تم سے سرکار میں عرضیاں دے کر پیچھا چھڑاتے۔اب تو اس کے برخلاف تمہیں ہر طرح زیر مواخذہ ہو۔قرآن کی رُو سے وہ بچے، حدیث کی رُو سے وہ بچے عقل ان کے موافق نقل ان کے مطابق، قرآن تمہیں جھٹلاتا ہے،حدیث تمہیں ہراتی ہے، عقل تمہیں دھکے دیتی ہے۔پچاس ساٹھ کتابیں ہمارے امام نے اپنے دعاوی اور ان کے دلائل میں اردو فارسی عربی میں تصنیف فرما ئیں اور شائع کیں جن میں سے اکثر کی ایک ایک کاپی تمیں بھی اس عاجز نے اتمام حجت کے لئے بھیج دی جس کو تم نے اور تمہارے دوست مولویوں نے مطالعہ کیا ہو گا لیکن تم ایمانا کہو کہ تم نے بھی کبھی بجز چند اک گالیوں کے کوئی معقول جواب ان کتب میں سے کسی ایک کا بھی دیا۔ہمارے امام نے تمام جہان کے علماء کو اشتہار دیا کہ تم مجھ سے مباحثہ کرلو، مباہلہ کرلو، مقابلہ میں کوئی کرامت دکھاؤ، قبولیت دعا کا کوئی نمونہ پیش کرو، عربی میں کہیں سے قرآن شریف کی تفسیر لکھو اور صاف طور پر پیشگوئی بھی کر دی تھی کہ تمام مخالف علماء مجھ سے مباحثہ مباہلہ عربی تفسیر نویسی و استجابت دعا و کرامت نمائی میں ہارو گے اور تم سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔آج تک تو یہ قول ہمارے امام کا صحیح نکلا اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ صحیح نکلے گا۔تم کو قسم ہے خدائے وحدہ لا شریک کی کہ تم اور جو تمہارے حمایتی بھوپال میں ہیں ہمارے امام کے مقابلہ پر آؤ۔جس طرح تم سے ہو سکے زور لگا و مگر تم کبھی کامیاب نہیں ہونے کے۔تم میں نہ اسلامی غیرت ہے نہ اسلامی جوش نہ تقویٰ نہ طہارت۔اصل یہ کہ تمہارے ساتھ خدا نہیں اور تمہارا ایمان پرانا ہوگیا اور اسے گھن کھا گیا ہے۔تم میں نہ نور ہے نہ اسلامی برکت ہے۔عورتوں کی طرح کو سنا آتا ہے سو تم پانی پی پی کر اور گود پھیلا پھیلا کر کوسو، گالیاں دو، اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کر و عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے مگر فتح مکہ کے بعد جو مسلمان بھی ہوئے تھے ان میں سے اکثر قبیلے بعد وفات رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے مرتد ہو گئے تھے۔نیک مسلمان اور مقبول وہی تھے جو غربت اسلام کے وقت اسلام لائے اور جنہوں نے ابتداء میں رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو پہچانا صبح صادق کے وقت جس نے معلوم کر لیا کہ اب دن چڑھے گا وہ بصیر و بینا ہے اور سورج نکلے جس نے دن چڑھنا منظور کیا وہ بھی کیا تیز بین آدمی ہے اور جو اس وقت بھی نہ مانے وہ شیطان ہے۔اب تم سوچو اور غور کرو کہ ہمارے امام کی نسبت تمہارا فہم اول مرتبہ تو خطا کر چکا ہے دوسری ہی مرتبہ کو غنیمت سمجھو پھر تیسرا مرتبہ ہے جس سے خدا تعالیٰ تم کو بچاوے۔قولک اور آپ کے امام کا جو دعویٰ ہے کہ میں مسیح کا مثیل ہوں تو اب تک کیا اس کا اظہار ہوا، کون سی اسلام کی ترقی ہوئی، کچھ حدود شرعیہ جاری ہو ئیں جو حضرت رسول اللہ ﷺ لائے تھے اگر یہ شخص مجدد ہے تو کون سے اللہ تعالیٰ