حیاتِ ناصر — Page 38
حیات ناصر 38 لکھو کے، غلام دستگیر قصوری، مولوی اسمعیل علی گڑھی خود ہی مباہلہ کر کے ایک سال کے اندر گذر گئے۔جلسہ اعظم لاہور میں جیسا کہ قبل از وقت ہمارے امام نے اشتہار دیا تھا کہ ہمارا مضمون بالا ر ہے گاوہ با تفاق موافق و مخالف بالا رہا وغیرہ۔باوصف ان سب نشانوں کے جاہل اور کور باطن غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں ان کا جگانا ہما رایا ہمارے امام کا کام نہیں بلکہ اللہ جلشانہ کا کام ہے وہی جگا جگا کر دور دراز ملکوں سے خلقت کو قادیان میں بھیج رہا ہے۔جن کے نصیب اچھے ہیں وہ آتے جاتے ہیں جو مردود از لی ہیں وہ دور ہی سے بیٹھے گالیاں دیتے ہیں اور غوغا کرتے ہیں۔ایسے نا اہلوں کی تو حضرت رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی اصلاح نہیں ہوئی تھی فریق فی السعیر جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما رکھا ہے وہ ہر زمانہ میں موجود رہتا ہے اور رہے گا یہاں تک کہ قیامت آوے۔بقول تمہارے تو بہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں لیکن حق کے قبول کرنے کے لئے خدا تعالیٰ تمہارے دل بھی کھول دے یہ دعا مانگا کر دور نہ کروڑوں روپے شہروں میں موجود ہیں لیکن جن کے ہاں فاقہ ہے انہیں وہ کروڑوں روپیہ کچھ فائدہ نہیں دیتے۔ایس سعادت بزور بازو نیست تانه بخشد خدائے بخشنده طلب کر وسچا طلب کرنے والا محروم نہیں رہتا۔قولک۔آپ کے امام خود اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ ہمارا نیا فرقہ ہے یہ خود اپنے بدعتی ہونے کے قائل ہیں لیکن ہمارا تو نیا فرقہ نہیں بلکہ ہمارے تو وہی عقائد ہیں جو رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں جو صحابہ و تابعین و صلح دین کا اعتقاد تھاوہی ہمارا عقیدہ ہے لیکن آپ کے امام کا اعتقاد نیا ہے اور محدث ہے آپ کو چاہیئے کہ غور کریں اور اس عقیدہ جدیدہ سے باز آئیں۔اقول۔کفار مکہ بھی ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر یہی اعتراض کرتے تھے کہ تم نے نیا مذہب اختیار کیا ہے اور پرانا مذہب بت پرستی جو آبائی مذہب تھا اُسے چھوڑ کر بدعتی بن گئے ہو۔کفار مکہ اپنے مذہب کو ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابراہیم تو مشرک نہیں تھا۔یہ تو بالکل جھوٹ ہے کہ ہم مسلمان نہیں یا تم مسلمان نہیں بے شک تم بھی مسلمان کہلاتے ہو اور ہم بھی مسلمان ہیں مگر تمہاری مسلمانی کو پھپھوند لگ گئی ہے اور اس پر جابجا کائی جم گئی ہے اور اس پر گرد و غبار جم گیا ہے اور سچے اصولوں کو تم نے بھلا دیا ہے اور بجائے اس کے خیالات خام کو دخل دے دیا ہے اور یہ خرابی بعد خیر القرون کے شروع ہو کر رفتہ رفتہ