حیاتِ ناصر — Page 71
حیات ناصر کو غنیمت سمجھو۔71 غنیمت جان لو مل بیٹھنے کو جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے میں نے تمہیں موٹی موٹی باتیں سنائی ہیں اس کے دو باعث ہیں۔ایک تو یہ کہ مجھے بار یک مسائل اور قرآن شریف کے حقائق و معارف آتے نہیں نہ مجھ پر وارد ہوتے ہیں بلکہ سنے سنائے ہیں۔دوسرے یہ کہ جوانسان بھوکا ہوا سے عطر ملنا اور پھولوں کے ہار اس کے گلے میں ڈالنا، پان والا بچی کھلانا عبث ہے۔سوضروری مسائل ایسے ہیں جیسے کہ روٹی اور حقائق و معارف ایسے ہیں جیسے کہ عطر پھول وغیرہ۔میرے خیال میں بھوکے کو پہلے کھانا کھلانا چاہیئے پھر بعد اس کے اگر میسر ہو تو عطر، پھول، پان الا پچی وغیرہ بھی پیش کرے۔میں نے خیر خواہی سے جو مجھے میسر تھا پیش کر دیا ہے اس میں تاثیر کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔میرا مولا اسے قبول فرما دے اور مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق بخشے آمین حضرت میر صاحب کی خدمات سلسلہ حضرت میر صاحب کی تمام زندگی پنشن لینے کے بعد سلسلہ کی مختلف قسم کی خدمات میں گزری ہے اور یہ کہنا بالکل درست ہے کہ وہ آخری وقت تک اسی خدمت میں مصروف رہے۔جب تک سلسلہ کے کاموں کا دائرہ وسیع نہیں ہوا تھا اور سلسلہ کے کاموں کی وسعت صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف اور اشتہارات تک محدود تھی اس وقت حضرت میر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے موافق آپ کے تمام کام کیا کرتے تھے اور حضرت کی ذاتی جائیداد کا انتظام اور سلسلہ کی اس وقت کی تعمیرات کا انتظام آپ کے سپرد تھا۔۱۸۹۸ء کے آغاز کے ساتھ قادیان میں مدرسہ تعلیم الاسلام کی بنیا درکھی گئی۔مدرسہ تعلیم الاسلام کے مینجر اس کی تجویز ۱۸۹۷ ء کے آخر میں ہوئی اور اس کی ابتداء اور اجراء جنوری ۱۸۹۸ء میں ہوا حضرت میر صاحب قبلہ اس کے سب سے پہلے میجر مقرر ہوئے۔خاکسار عرفانی اس مدرسہ کا پہلا ہیڈ ماسٹر تھا۔حضرت میر صاحب مدرسہ کی بہتری اور بھلائی کے لئے اپنی تمام قوتوں کو صرف کرتے تھے مگر چونکہ وہ موجودہ طریقہ تعلیم یا تعلیمی ضروریات اور حالی اصلاحات تعلیمی سے واقف نہ تھے اس لئے بسا اوقات ان میں اور میرے جیسے نوجوان اور تیز مزاج ہیڈ ماسٹر کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوتے تھے اور وہ شدید بھی ہو جاتے تھے لیکن ایسے بدمزگی