حیاتِ ناصر — Page 72
حیات ناصر 72 اور مخالفت پیدا ہوکر سلسلہ کی سب سے پہلی تعلیمی انسٹیٹیوشن سے کام میں عدم تعاون نہ ہوتا تھا بلکہ ہم دونوں اس گاڑی کو کھینچنے اور اس انسٹیٹیوشن کو کامیاب بنانے کے لئے یکساں کوشش کرتے تھے۔جب تک میر صاحب مینجر رہے انہوں نے مدرسہ کے ساتھ پوری دلچپسی کا عملی ثبوت دیا۔ناظم تعمیرات مدرسہ کی مینجری کے ساتھ ہی وہ ناظم تعمیرات بھی تھے چنانچہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی پہلی عمارت جس میں آجکل مدرسہ احمدیہ ہے ان کی ہی نگرانی میں تیار ہوئی۔جس محنت اور جفاکشی سے انہوں نے یہ کام کیا ہے جولوگ اس وقت موجود تھے اور جن میں سے ایک میں بھی ہوں وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اس کام میں اتنی محنت کی کہ کوئی تنخواہ دار ناظم بھی نہ لیتا۔ان کو اس کام کے لئے کوئی معاوضہ نہیں ملتا تھا بلکہ بیامرواقعہ ہے کہ انہوں نے سلسلہ کے کسی کام اور خدمت کے لئے کبھی کوئی معاوضہ نہیں لیا اور ہمیشہ اس کام کو اعزازی کیا اور با وجود آنریری کام کرنے کے وہ تنخواہ لینے والوں سے بہت زیادہ کام کیا کرتے تھے۔ان کے کام کے اوقات اور گھنٹہ مقرر نہ ہوتے تھے بلکہ ان کے ۲۴ گھنٹہ اسی کام کے لئے وقف ہوتے تھے۔پھر جوں جوں عمارت کا سلسلہ وسیع ہوتا گیا وہ یہ کام کرتے رہے اور صدرانجمن کے قیام کے زمانہ میں بھی وہ کچھ عرصہ تک ناظم تعمیرات رہے۔افسر مقبرہ بہشتی جب سلسلہ کا کام بہت وسیع ہو گیا اور مختلف محکمے ان کے صدر انجمن کے ماتحت قائم ہوئے تو پھر حضرت میر صاحب کی خدمت کلی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ وغیرہ کی درستی کی طرف منتقل ہو گئیں اور انہوں نے باغ میں بیش قیمت اضافہ کیا۔اسی سلسلہ میں وہ افسر مقبرہ بہشتی کی حیثیت سے اس کے باغیچہ کی تیاری اور درستی کے انچارج بھی رہے۔بہشتی مقبرہ میں جس قدر درخت اس وقت تک لگے ہوئے ہیں اور چاہ وغیرہ کی تعمیر یہ سب حضرت میر صاحب قبلہ کی خدمات مقبرہ کا اعلان ہے۔مگر کچھ عرصہ کے بعد حضرت میر صاحب کی صاف گو طبیعت و عادت صدرانجمن کے ممبران برداشت نہ کر سکے اور حضرت میر صاحب کو اس خدمت سے الگ ہونا پڑا۔مگر پھر