حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 67 of 104

حیاتِ ناصر — Page 67

حیات ناصر 67 اور اوصاف سے ان میں اور اپنے میں فرق کر کے دکھاؤ۔بغیر شاہد کے عادل شہادت منظور نہیں ہوتی زبانی لاف و گزاف کسی کام کی نہیں جب تک اعمال اس پر گواہی نہ دیں۔اگر تم نے اعمال صالحہ سے اپنے عقائد کی تصدیق نہ کی تو تم میں اور یہود منش مسلمانوں میں کیا فرق ہے اور تمہیں احمدی ہونے کا کیا فخر ہے بلکہ زبانی احمدی ہونا تمہارے لئے باعث تباہی وخرابی ہے۔وہ تو اندھے ہیں تم آنکھوں والے ہو کر پھر اندھے بنتے ہو۔وہ تو بے خبر ہیں تم خبر دار ہو کر بے خبری اختیار کرتے ہو۔لہذا تم ضرور اپنی اس غفلت یا شرارت کا خمیازہ بھگتو گے اور خدا کی نظر میں بدعہد اور بد کردار ٹھہر وگے اور خدا کا غضب تم پر ان سے پہلے نازل ہوگا اور تم بھی عذاب الہی کے شکار ہو گے اور تمہیں بھی طاعون ہلاک کرے گا نیز دنیا میں بھی تمہاری عزت برباد ہو جاوے گی اور تمہارا رعب نہیں رہے گا تم اپنے امام کے نصائح پر عمل کرو۔تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرو۔خدا سے ہر وقت ہر اسان وتر سان رہو۔تو بہ واستغفارکواپنا وظیفہ بناؤ۔نیک کام کرو۔حلال روزی کھاؤ۔دنیا کو حلال طریقہ سے کماؤ اور پاک طرز سے اسے استعمال کرو۔فخر و تکبر، ریا، فریب، خود غرضی سے پر ہیز کرو۔جھوٹ سے ایسی نفرت کرو جیسے سو ر سے کرتے ہو۔وعدہ خلافی ہرگز نہ کرو کہ اس سے خدا تعالیٰ اور اس کے بندے نفرت کرتے ہیں۔تاویلوں سے بُرے کام کو اچھانہ بناؤ کہ یہ یہود کا شیوہ ہے میسیج کی جماعت کا طریقہ نہیں ہونا چاہیئے۔زنا اور اس کے متعلقات سے ایسا بچو جیسا کہ سانپ سے ڈر کر بھاگتے ہو کیونکہ سانپ کا کاٹا ہوا تو کبھی بیچ بھی سکتا ہے مگر زنا کا مارا ہوا بری موت سے مرتا ہے۔کسی سے دشمنی نہ رکھو خصوصاً احمدی بھائیوں سے۔کل زمانہ کو چھوڑا تم نے اپنی احمدی برادری کے لئے ہے اگر اس برادری میں بھی پھوٹ اور دشمنی ہوگی تو آرام کس طرح پاؤ گے۔سارا جہان تو دشمن ہے گھر میں تو محبت اور شفقت اختیار کرو ورنہ تم سے زیادہ بے نصیب اور کون ہوگا۔بقول شخصے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔محبت کو بڑھاؤ جو خدا کے لئے دو شخص آپس میں محبت کرتے ہیں انہیں قیامت کے دن عرش کے سایہ میں جگہ ملے گی جہاں اور کوئی سایہ نہیں پہنچائے گا۔دنیا میں بھی جس کے دوست زیادہ ہیں وہ امن و آسائش سے رہتا ہے۔جس کے دشمن زیادہ ہیں وہ بلاؤں میں گرفتار ہوتا ہے۔اس لئے دوست زیادہ بناؤ دشمنوں کی تعداد کو گھٹاؤ۔اگر ایک لاکھ خرچ کر کے بھی ایک دوست میسر آوے تو سوداستا ہے۔دشمن بنانا آسان ہے دوست بنانا مشکل ہے۔تم احباب کے دائرہ کو وسیع کرو اور دشمنی کے دائرہ کو ایسا تنگ کرو کہ گویا مٹا ہی دو یتم سود سے ایسا پر ہیز کر وجیسا کہ سور سے اگر چہ احمدی احباب سود بہت کم کھاتے ہیں مر کھلانے والے بہت ہیں اور سمجھدار