حیاتِ ناصر — Page 68
حیات ناصر 68 اور باوقار احباب بھی اس میں مبتلا ہیں۔ایک صحابی کا تو نام لو کہ وہ بعد ممانعت کے سود کھاتا تھا یا کھلاتا تھا۔جب تمہارا امام محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہیں اورخلیفہ امسیح ابوبکر صدیق کا تو تم میں سے ۱ ہر ایک شخص صحابی کا بروز ہوگا۔کہنے کو تو صحابہ کا نمونہ ہو اور کام ان کے برخلاف کر وحیف ہے۔تمہاری ظاہری وضع بھی مسلمانوں جیسی ہو۔دور سے پہچانے جاؤ کہ مسلمان ہو۔انگریزی لباس مع ٹوپی نہ پہنو کہ اس میں کرانی ہونے کا دھو کہ لگتا ہے۔ڈاڑھی نہ منڈاؤ۔دھوتی نہ باندھو کہ ہند و معلوم نہ ہو۔پاجامہ ٹخنے سے نیچے نہ لٹکاؤ کہ اس کی اسلام میں مخالفت ہے۔شملہ ضرور چھوڑو کہ یہ سنت ہے۔السلام علیکم کھلے دل سے کیا کرو۔بیمار پرسی اور جنازہ کے ساتھ جانا اور دعوت قبول کرنا یہ کام بھی نہایت ضروری ہیں بلکہ آپس میں ان کاموں کی ایک دوسرے کو تاکید کردو تسبیح و مصلی ساتھ ساتھ نہ لئے پھرو کہ یہ دکھاوا ہے يا ايها الذين امنو ا ادخلوا في السلم كافة اے مسلما نو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔ادھورا کوئی کام اچھا نہیں تھوڑ اسا بھی نقص بڑی خرابی پیدا کرتا ہے۔روٹی اگر کچی رہ جاوے تو پیٹ میں درد پیدا کرتی ہے اور چاول اگر ذرا خام رہ جائیں تو کھانے والے کو ہلاک کر دیتے ہیں۔اسی طرح دین میں بھی نقص جہنم میں داخل کرتا ہے۔مناسب ہے کہ جس طرح حضرت صاحب نے تمہیں تعلیم دی ہے اُس پر مضبوط ہو کر چلو۔آپس میں یک دل و یک زبان رہو اور دشمنوں سے پر ہیز کرو۔اپنے امام کے اعداء کو لڑکیاں نہ دو کہ اس میں احمدیوں کی ہتک ہے اور ان بے چاریوں پر ظلم۔ہر ایک جماعت اپنے اپنے مقام میں ایک مسجد ضرور بناوے۔جماعت سے نماز کا اہتمام کرو کہ اس میں بہت برکت ہے۔شیعہ کی طرح علیحدہ علیحدہ نمازیں نہ پڑھا کرو کہ یہ اسلام کے بالکل برخلاف ہے اس کا انجام اچھا نہیں۔جماعت سے رہتے رہتے کسی دن نماز سے بھی رہ جاؤ گے۔زکوۃ اسلام کا ضروری فرض ہے اس کے ادا کرنے میں سنتی نہ کر دور نہ تمہارے رہتے سہتے حال بھی غارت ہو جائیں گے۔زکوۃ امام کی موجودگی میں علیحدہ علیحدہ دینا ٹھیک نہیں بلکہ احسن طریق یہ ہے کہ خلیفہ اسیح صاحب کی خدمت میں قادیان میں سالانہ یا ماہانہ ارسال کیا کرو اور اس فرض سے احسن طریق سے سبکدوش ہوا کرو۔اگر اس طرح نہ کرو گے تو شاید دینے کے بھی نہیں اور خدا کے عذاب میں گرفتار ہوکر خوار ہو جاؤ گے اور تمہارے اموال میں برکت نہیں رہے گی۔نیز قادیان کے ضعفاء کا بھی خیال رکھا کرو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کل باہر رہنے والوں کو ضعفاء مدینہ منورہ کی امداد کے لئے تاکید فرمایا کرتے تھے بلکہ امراء سے ضعفاء کے لئے زور سے