حیاتِ ناصر — Page 41
حیات ناصر 41 کے حکم جاری کئے قطع طریق ، زنا ، سرقہ کیا خلاف باتیں روکیں۔اقول - گرنه بیند بروز شب پر چشم چیه چشمه آفتاب را چه گناه دین اسلام میں بعد خیر القرون کے ایسے ایسے گندے عقیدے مل جل گئے تھے کہ جس سے اسلام کی ساری شان و شوکت جاتی رہی تھی۔ہمارے امام نے وہ عقائد باطلہ دور کئے اور کر رہے ہیں۔نئے سرے سے مسلمانوں کو مسلمان بنایا اور بنارہے ہیں۔تمہارے پرانے عقائد کے موافق حضرت عیسے شریک باری اور دجال ان سے بھی دو قدم زیادہ ہے۔ہمارے امام کے عقیدے کے موافق حضرت عیسے احضرت موسیٰ کے ایک تابع اور پیرو نبی تھے اور ان میں کوئی ایسی صفت نہیں تھی جو کسی اور نبی میں نہ ہو۔اگر کہو کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے تو جواب یہ ہے کہ حضرت آدم بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے۔اگر کہو کہ وہ مردے زندہ کرتے تھے تو جواب یہ ہے کہ اصلی مردے قبروں سے سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی اٹھا نہیں سکتا اور خدا تعالیٰ بھی قیامت کو اٹھائے گا۔اس کا بھی دستور نہیں کہ کسی کو زندہ کرے۔اگر کہو کہ وہ مٹی سے جانور بنا کر انہیں زندہ کر دیتے تھے تو بالکل غلط ہے۔پھونک مار کر اڑا دیتے نہ کہ زندہ کر دیتے تھے۔یوں تو حضرت موسے کا عصا بھی سانپ بن جاتا تھا مگر اصل میں وہ لاٹھی کی لاٹھی تھی اور حضرت عیسے کی مٹی کی چڑیاں بھی ذرا پرے جا کر گر پڑتی تھیں اور مٹی کی مٹی رہ جاتی تھیں۔دوسرے معجزوں کا بھی ایسا ہی حال ہے۔اکمہ رتوندہ والے ( رات اندھا) کو کہتے ہیں۔مولویوں نے مادر زاد اندھا غلط ترجمہ کیا ہے۔اگر یہ کہو کہ حضرت عیسے اور ان کی ماں میں شیطان سے پاک تھیں اور کل نبیوں کو شیطان نے ہاتھ لگایا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ہاتھ لگانا کیسا ہمارے رسول مقبول کا شیطان تو خود مسلمان ہی ہو گیا تھا۔اسی طرح دجال اور یا جوج ماجوج دابتہ الارض کو عجیب الخلقت بنا رکھا ہے جس کی حقیقت ہمارے امام نے کھولی ہے۔ان کی کتا بیں دیکھو اور ہزارہا مسائل دینیہ کو تم نے خراب کر رکھا تھا اور قرآن وحدیث کے معنی بہت جگہ سے اُلٹے پلٹے کر رکھے تھے۔ہمارے امام نے انہیں سہل اور آسان کر دیا اور ایسا عمدہ طرح سے سمجھایا کہ سبحان اللہ کچھ شک وشبہ باقی نہ رہا۔حکماً عدلاً ہمارے امام کی شان ہے۔بیرونی دشمنوں پادریوں اور آریوں وغیرہ کو ایسا قائل کیا کہ بول نہیں سکتے۔براہین احمدیہ ایسی لاجواب کتاب لکھی کہ جو بے تعصب ہو کر پڑھے گاوہ لطف اٹھائے گا۔آج ہمارے امام کے سوا قرآن شریف اور رسول کریم یا اللہ کا کون حامی و مددگار ہے۔کہنے کو تو سینکڑوں مجلسیں اور انجمنیں نکل پڑی ہیں لیکن عملی طور پر کسی نے آج تک کچھ نہیں کیا اور تم کر بھی کیا سکتے ہو جب کہ تم خود اپنے عقائد کے رُو سے نیم عیسائی ہو۔حضرت عیسی کو آدھا رتبہ خدا کا تم نے دے رکھا ہے عیسائیوں نے پورا دے