حیاتِ ناصر — Page 42
حیات ناصر 42 رکھا ہے۔تم ان کے مددگار ہو دو ہزار سال سے زندہ تم بھی مانتے ہو آسمان پر جو فرشتوں اور روحوں کی جگہ ہے تم نے انہیں بٹھا رکھا ہے۔محی تم انہیں تسلیم کرتے ہو۔پرندوں کا خالق تم انہیں مانتے ہو۔شافی تم کہتے ہو۔عالم الغیب تم کہتے ہو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہو کہ اذن الہی سے ان میں یہ خدائی اوصاف تھے۔پھر ہم سوال کرتے ہیں کہ خدا اپنے جیسا خدا بھی بنا سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر یہ اوصاف بندوں کے لئے جائز ہیں تو محمد رسول اللہ ان سے کیوں محروم رہے اور باوجود اس قدر تنزل کے وہ افضل الرسل اور سید ولد آدم کیونکر۔ہمارے امام نے حضرت عیسے کو آدمی بنایا جنہیں تم نے خدا بنا رکھا تھا۔انہیں آسمان سے اتار کر کشمیر جنت نظیر کے نواح سرینگر محلہ خان یار میں سلا دیا۔عیسائیوں پر اسلام کی ایسی حجت پوری کی کہ تمام عیسائی یہاں تک کہ لا ہور کا بشپ صاحب بھی مقابلہ سے گریز کر گیا۔اب اگر کوئی پادری قادیان میں آتا ہے تو آکر ادب سے ہمارے امام کا کلام سنتا ہے چون و چرا ہر گز نہیں کرتا۔جنگ مقدس جو امرتسر میں ہوئی تھی جس میں آتھم صاحب کی نسبت ہمارے امام صاحب نے پیشگوئی کی تھی وہ دو پہلو سے پوری ہوئی۔اول بسبب حق کی طرف رجوع کرنے کی میعاد پیشگوئی بڑھ گئی لیکن جب اس نے اظہار حق اور قسم کھانے سے انکار کیا تو بہت جلد اس جہان سے رخصت ہو گیا۔پنڈت لیکھرام نے ایک اودھم مچا رکھا تھا جب ہمارے امام صاحب سے مقابلہ ہوا اور اس نے گستاخی سے پیشگوئی طلب کی تو ہمارے امام نے اس کی درخواست پر پیشگوئی کی کہ چھ سال میں تیرا کام کسی عذاب سے تمام ہوگا۔آخر ایسا ہی ہوا کہ جیسا الہام میں بتایا گیا تھا کہ عید کے دوسرے دن وہ لاہور میں سرشام مارا گیا اس کا قصہ لاہور میں مشہور ہے۔سکھوں پر بھی ہمارے امام نے حجت پوری کی اور ان کے گھر سے ان کے گرونانک کا چولا جس پر قرآن شریف کی آیات جابجا تحریرہ ہیں نکال کر انہیں دکھا دیا کہ گرونانک ایک مسلمان تھے جو نماز پڑھا کرتے تھے اور حج بھی دو دفعہ کیا تھا اور مسلمان اولیاء کے مقابر کے نزدیک چلہ کشیاں کیا کرتے تھے جس کا معقول جواب کسی سکھ نے آج تک نہیں دیا۔تمہاری اصل مرضی یہ ہے کہ جہاد کیوں نہیں کیا جس کو بسبب انگریزوں کے خوف کے صاف صاف زبان پر نہیں لا سکتے اور اسی مسئلہ کے اختلاف کے سبب سے اکثر مولوی ہمارے امام علیہ السلام کے دشمن جان بن گئے ہیں۔بہانہ اور کرتے ہیں لیکن خوب سمجھتے ہیں کہ اصل باعث کیا ہے نامردی کے سبب سے اظہار نہیں کر سکتے مثل مشہور ہے گوئم مشکل وگر نہ گوئم مشکل جس طرح کوئی چور رات کو اگر کسی سے پٹ کر آتا ہے تو اپنی مار کا اظہار نہیں کرسکتا۔بلکہ خفیہ خفیہ علاج کرتا ہے اور کسی اور بہانہ سے اس مارنے والے کو برا بھلا کہتا ہے کیونکہ اگر