حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 74 of 104

حیاتِ ناصر — Page 74

حیات ناصر 74 اُردو ترجمۃ القرآن کا اہتمام خلافت اولی میں حضرت میر صاحب نے ترجمۃ القرآن اردو کے اہتمام کا عظیم الشان کام شروع کرنا چاہا۔ان کی خواہش اور دلی تمنا تھی کہ قرآن مجید کا ایک اردوترجمہ جماعت کے لئے تیار کرا ئیں اور اس کی طبع کا تمام اہتمام خود کریں اور اس کے لئے جماعت میں اپنے چندوں کے سلسلہ میں دورے کریں اور یہ ترجمہ حضرت حکیم الامت کا ہو چنانچہ حضرت میر صاحب نے اس کام کے لئے اعلان کر دیا اور اعلان ہی نہیں عملی قدم بھی اٹھایا۔حضرت خلیفہ امسیح نے اس کو بہت پسند فرمایا اور خود حضرت خلیفہ اسیح نے قرآن مجید کا اپنا کیا ہوا ترجمہ حضرت میر صاحب قبلہ کو دیدینے کا ارادہ بھی فرما لیا تھا بلکہ نہایت جوش سے آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ مکمل کرنے کے لئے کام بھی شروع کر دیا۔لیکن چونکہ صدر انجمن کے ماتحت بھی قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کا کام شروع ہو چکا تھا اس لئے جہاں تک میراعلم ہے صدر انجمن کے بعض لوگوں نے اس کام کو جو حضرت میر صاحب قبلہ کرنا چاہتے تھے۔اس کام سے تصادم کا ذریعہ سمجھا اور بالآخر اس کام کو حضرت میر صاحب کو چھوڑنا پڑا اور حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ نے بھی بکراہت اسے ترک کر دیا۔میں آج حضرت میر صاحب قبلہ کے سوانح حیات میں اس کا ذکر کرتے ہوئے دکھ محسوس کرتا ہوں کہ اس وقت بعض لوگوں کی غلطی نے دنیا کو ایک عظیم الشان نعمت سے محروم کر دیا۔حضرت حکیم الامتہ کا ترجمۃ القرآن ایک بے نظیر قرآن کریم کی تفسیر و ترجمہ ہوتا۔خداس شخص پر رحم کرے جس کی تحریک نے دنیا کو اس سے محروم کیا۔تعمیر دار القرآن 19ء میں حضرت حکیم الامتہ خلیفہ اسمع اول رضی اللہ عنہ نے دار القرآن کی تعمیر کا خیال ظاہر فرمایا اور باوجود یکہ صدر انجمن کا محکمہ تعمیر موجود تھا مگر حضرت خلیفہ امسیح اول کی خواہش اور دلی تمنایہ تھی کہ یہ کام حضرت میر صاحب قبلہ کے ذریعہ ہو چنا نچہ آپ نے اس تعمیر کے متعلق حضرت میر صاحب کو ہی ناظم و مہتم مقررفرمایا۔میں نے اس وقت اس کے لئے جو اعلان کیا وہ اس پر شاہد عادل ہے اور میں اسے یہاں درج کر دینا لازمی سمجھتا ہوں۔دار القرآن حضرت خلیفہ المسح مدظلہ العالی کواللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی محبت، اس کی سمجھ اور اس کی اشاعت وتعلیم کا جوش فطرتاً عطا فر مایا ہے۔جن لوگوں کو قادیان آنے کا اتفاق ہوا انہوں نے دیکھا ہوگا کہ حضرت ہمیشہ سے