حیاتِ ناصر — Page 73
حیات ناصر 73 وقت آیا کہ صدر انجمن حضرت میر صاحب کو ناظم تعمیرات کی خدمت سپرد کرنے پر مجبور ہوئی چنانچہ میں نے الحکم جلد ۷ نمبر ۲۱ میں حسب ذیل نوٹ شائع کیا۔”حضرت ناصر پھر محکمہ تعمیر میں ایک زمانہ تھا کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب مقبرہ بہشتی کے باغیچہ کے انتظام سے الگ ہونے پر مجبور تھے مگر آج کئی سال کے بعد کمیٹی ضرورت محسوس کرتی ہے کہ انہیں پھر محکمہ تعمیر کی نظارت ونگرانی کا کام سپر د کرے۔حضرت میر صاحب قبلہ اس کے ہر طرح سے اہل ہیں اور اس فن سے واقف۔مجھے تو ہمیشہ تعجب ہوتا تھا کہ کیوں اس محکمہ تعمیر کا کام ان ماہروں اور واقفوں کی کمیٹی کے سپردنہیں کیا جاتا جو اس فن میں دسترس رکھتے اور سرکاری کاموں پر مامور ہیں۔وقتاً فوقتاً یہ لوگ مشورہ کے لئے قادیان میں جمع ہو سکتے تھے۔اب بھی ضرورت ہے کہ محکمہ تعمیر کی ایک کمیٹی ایسے لوگوں کی ہو۔غالباً قبلہ میر ناصر نواب صاحب اس کی طرف توجہ کریں گے اور مستقل طور پر ارباب فن کی ایک کمیٹی تعمیر قائم ہو جائے گی۔“ باغ کی عمارات ایام زلزلہ میں ۱۹۰۴ء زلزلہ کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی وحی کے ماتحت باغ میں تشریف لے گئے اور حضرت حکیم الامۃ اور مخدوم الملۃ رضی اللہ عنہما اور دوسرے احباب بھی وہاں ہی جاٹھہرے۔اس وقت وقتی ضروریات کے ماتحت چند عمارتوں کی ضرورت لاحق ہوئی جن کو حضرت میر صاحب نے بہت سرعت اور ہمت سے تیار کرا دیا۔باغ کی موجودہ عمارات بھی حضرت میر صاحب کی حسن تدبیر کا نتیجہ ہیں۔دور الضعفاء کے تمام مکانات کے لئے نہ صرف آپ نے پھر کر چندہ کیا بلکہ اپنی نگرانی میں تمام عمارات کو بنوایا۔آخیر عمر میں باوجود یکہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے مگر پھر بھی اپنے گھر سے جو دار العلوم میں تھا دور الضعفاء تک چل کر جاتے اور گھنٹوں اس کی نگرانی فرماتے تھے۔میر صاحب کا یہ عزم اور یہ محنت اور اخلاص ایک نظیر ہے سلسلہ کے کام کرنے والوں کے لئے۔آج کتنے ہیں جو پنشن لے کر سلسلہ کا کام اس جانفشانی سے بلا مزد و امید اجر مال کرنے کو تیار ہیں۔مسجد نور اور ہسپتال کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔