حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 47 of 104

حیاتِ ناصر — Page 47

حیات ناصر 47 پہیلیاں ہوتی ہیں جن کو دینی عظمند بو جھتے ہیں اور بے دین بے عقل با وصف آتے اپنے بتانے کے حیران رہ جاتے ہیں ان کی سمجھ میں خاک بھی نہیں آتا۔بقول شخصے دلی راولی می شناسد۔نیکوں کو نیک ہی پہچانتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو بکر نے فوراً پہچان لیا۔بلال وغیرہ نے پہنچانا مگر مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے نہ پہچانا۔اصل یہود نے جس طرح اصل ابن مریم کو نہیں پہچانا تھا یہ مثیل یہود بھی جن سے مراد علماء ہیں مثیل ابن مریم کو نہیں پہچان سکتے۔اگر انبیاء کو لوگ آتے ہی قبول کر لیتے اور پہچان لیتے تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول معاذ اللہ غلط ٹھہرتامايأتيهم من رسول الأكانوا به يستهزء ون - ( يس (۳۱) اولیا ء انبیاء کے اظلال ہوتے ہیں ان کو بھی پہچاننا مشکل ہے۔اسی سبب سے اس امت کے تمام اولیاء نے علماء اور جہلا کے ہاتھوں سے بڑے بڑے دکھ اُٹھائے۔سوجن کی آنکھوں پر پردے پڑے تھے اور کان بہرے ہو گئے تھے کیا اصل میں اندھے اور بہرے ہو گئے تھے یا قبول حق سے اندھے اور بہرے ہو گئے تھے۔اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ظاہری آنکھوں اور کانوں کے بیکار ہونے کے بھی اسباب ہوتے ہیں اسی طرح باطنی آنکھیں اور کان بھی سرکشی اور شرارتوں کے سبب سے چھینے جاتے ہیں اور تو بہ اور استغفار سے پھر مل بھی جاتے ہیں۔ظاہری بیماریوں کا جس طرح علاج ہوسکتا ہے اور ہزاروں بیمار شفا پاتے ہیں اسی طرح باطنی بیماریاں بھی اچھی ہو سکتی ہیں ان کا بھی علاج اللہ و رسول نے فرمایا ہے۔سب سے پہلے تو ہر ایک خیال سے خالی ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف آدمی رجوع کرے اور روروکر سخت بیقراری اور گریہ وزاری سے التجا کرے۔رات کو دن کو دو پہر کو پانچوں نمازوں کے رکوع میں سجود میں قومہ میں جلسہ میں آخر کے قعدہ میں ایک مصیبت زدہ کی طرح گڑ گڑاوے اور آہیں مار مار کر فریاد کرے اور تھکے نہیں ، ماندہ نہ ہو گا تا ر کوشش کئے جاوے اور بس نہ کرے جب تک اللہ تعالیٰ انکشاف حقیقت نہ فرمادے اور کثرت استغفار اور درودرات دن محنت سے کرے انشاء اللہ چالیس روز نہیں گذرنے کے کہ حقیقت منکشف ہو جاوے گی۔پہلے سے دل میں یہ تصور کر لینا نہیں چاہیئے کہ فلاں جھوٹا ہے۔احکام اسلام کے برخلاف ہے۔انسان کو یوں دعا کرنی چاہیے : اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعهاللهم ارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه اور جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے خواب میں یا دیگر دلائل سے معلوم ہو اس کو بلا چون و چرا مانے کا پہلے سے ارادہ دل میں ٹھان لیوے تعصب بالکل نہ کرے۔دوم یہ کہ کتابوں کو بغور ملاحظہ کرے بیہودہ سمجھ کر پھینک نہ دے بار بار کتابوں کو پڑھے اور سوچے آخر حق و باطل میں خدا تعالیٰ تمیز پیدا کر دے گا۔والذين جاهد وافينالنهدينهم سبلنا