حیاتِ ناصر — Page 48
حیات ناصر 48 کوشش بغیر کچھ ہوتا نہیں ادنے کام بھی بغیر تکلیف کے ہم نہیں پہنچتا۔دین کچھ کھیل نہیں ہے شطرنج کی بازی نہیں ہے کہ نہ جیتنے سے کچھ فائدہ نہ ہارنے سے کچھ نقصان بلکہ یہاں جنت اور دوزخ رو برور کھے ہیں۔ایک جنت کا راستہ ہے دوسرا دوزخ کا جس راستہ پر قدم اٹھاؤ گے جہاں وہ پہنچے گا وہیں تم بھی جاؤ گے خواہ تمہارا ارادہ ہو یا نہ ہو۔چودھویں صدی اچھی آئی کہ بجائے مجدد کے ایک دجال بقول تمہارے پیدا ہوا اور مجد دکو آنے سے اس نے روک دیا۔خدا اور رسول کی باتیں کبھی غلط نہیں ہوتیں کیا یہ وقت فتنوں کا نہیں۔پہلے مجددین کی نسبت تو ہزار گونہ فتنے دنیا میں زیادہ موجود ہیں۔اس وقت تو کوئی بڑا ہی بھاری مجدد درکار ہے ( جیسے ہمارے امام ہیں جو تمہاری نظر میں معاذ اللہ ایک دجال کا حکم رکھتے ہیں۔) جوان فتن کا مقابلہ کرے۔صلیب کا زورا بھی تمہیں محسوس نہیں ہوا کہ جس کے توڑنے والے کی ضرورت محسوس ہو اور خنزیر خصلت شیطان سیرت آدمی آپ نے نہیں دیکھے کہ جن کو دلائل کی تلوار سے قتل کرنے والے کی آمد پر سجدات شکر بجالاؤ اور اس کے ساتھ ہو جاؤ۔کیا دجالی فتن انتہائی درجہ کو نہیں پہنچے کہ جن کے مٹانے کے لئے مسیح ابن مریم کی ضرورت ہو۔جو علامات اور نشانات سے بے خبر ہیں وہ دل مرے ہوئے ہیں۔جس طرح ظاہری حواس بعض بیماریوں سے بے کار ہو جاتے ہیں ایسے ہی باطنی حواس بھی گناہوں کی کثرت سے ضائع ہو جاتے ہیں۔اس زمانہ میں لوگ دنیا پر اس قدر مائل ہو گئے ہیں کہ دین کا خیال بھی نہیں رہا اور جس چیز کا خیال بھی نہ ہو اس سے آدمی بے خبر ہو جاتا ہے اور جس چیز سے بے خبر ہو اس میں رائے زنی بیہودہ ہے۔اب اگر کسی بنے سے لڑائیوں اور سپاہیوں کے معاملہ میں پوچھا جاوے تو وہ خاک بتلائے گا اور اگر کچھ بتلائے گا تو غلط بتائے گا۔آجکل کے ہمارے مولویوں کا بھی یہی حال ہے کہ علم و دین سے ایسے ہی بے خبر ہیں جیسا کہ شیخ صابن کے بھاؤ سے یا کوئی جاٹ عطر کی قدر و قیمت سے۔اول تو عالم رہے ہی نہیں۔مولوی ایک فرضی یا آبائی نام ہے جیسے سرکاری خطاب کہ بعض جولا ہوں اور تیلیوں کو بھی بسبب عہدوں کے خان بہادر کا خطاب مل جاتا ہے مگر بہادری ایک قلب کا فعل ہے وہ تو سرکار کسی کو عطا نہیں کر سکتی اور اگر ہزاروں میں سے ایک آدھا ہو بھی تو وہ دنیا پرست ہے يحمل اسفاراً کا مصداق۔ایمان ثریا پر چلا گیا تھا جس کو ہمارے امام دوبارہ لائے ہیں۔ایک ہی شخص ہے جس سے ایمانی نعمت ملتی ہے۔بھلا جو اس کا دشمن ہو گا اس کو ایمان کس طرح حاصل ہو سکتا ہے۔پرانی باتوں کو دماغ سے نکال دو تا کہ تازہ ایمان تمہیں حاصل ہو اور اس عارف باللہ اور نائب رسول اللہ کے پاس عجز وانکسار سے حاضر ہو کر دیکھو تا تمہیں حقیقت معلوم ہو ورنہ چند روز میں نہ میں رہوں گا نہ تم۔آخر وہی اللہ کا ایک نام رہے گا۔مگر مجھے آپ سے محبت اور ہمدردی ہے جس لئے پھاڑ پھاڑ کر اور کھول کھول کر تمہیں تنبیہ کرتا ہوں۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين