حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 28 of 104

حیاتِ ناصر — Page 28

حیات ناصر 28 حضرت میر صاحب قبلہ ایسی چیزوں سے کام لے لیا کرتے تھے جو کمی اور رڈی سمجھی جاتی تھیں اور جن کی طرف کسی کو توجہ نہیں ہوتی تھی۔اسی سلسلہ میں گول کمرہ کے سامنے جو احاطہ ہے میں اس کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔گول کمرہ کے سامنے کوئی احاطہ نہ تھا اور جس مقام پر حضرت نواب صاحب کی دکانیں بنی ہوئی ہیں وہ پرانی بنیادوں کی کچھ اینٹیں معلوم ہوتی تھیں حضرت میر صاحب نے کھدوا کر وہاں سے اینٹیں نکلوانی شروع کیں۔وہ اینٹیں جو غیر ضروری طور پر زمین میں مدفون تھیں نکالی گئیں اور ان کو بہتر مقام پر لگا کر حضرت میر صاحب نے گول کمرہ کے آگے ایک خوبصورت احاطہ بنا کر اسے رہنے کے قابل بنا دیا چنانچہ اب سب اُسے دیکھتے ہیں کہ وہ ایک آرام دہ اور ضروری چیز ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب حضرت میر صاحب وہاں سے اینٹیں نکلوار ہے تھے اس وقت بھی بعض کوتاہ اندیش کہہ رہے تھے کہ یہ کیا لغو کام کر رہے ہیں مگر سچ یہی ہے حقیقت شناس نئی دلبراخطاء اینجاست۔غرض جب سے وہ قادیان میں آئے تو انہوں نے اپنے خدا دا د علم اور تجربہ کو ضائع نہیں ہونے دیا اور اسے سلسلہ کی خدمت میں لگا دیا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں وہی تعمیرات سلسلہ کے ناظم تھے اور اس کام کو انہوں نے نہایت دیانت داری اور اخلاص سے سرانجام دیا۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں بھی کبھی عار نہ ہوتا تھا اور نہ پیدل سفر کرنے سے پر ہیز۔نہایت کفایت شعاری سے وہ سلسلہ کے اموال کو جوان کے ہاتھ میں ہوتے خرچ کرتے تھے۔ایک دنیا دار کی نظر میں اسے بے حیثیت کہا جائے مگر سچ یہ ہے کہ وہ ان اموال کے امین تھے۔حضرت نانا جان نے جس دیانت اور امانت کیسا تھ اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا وہ ہمیشہ آنے والی نسلیں عزت سے یاد کریں گی انہوں نے کبھی اپنے آرام کی پرواہ نہ کی۔کڑکتی دھوپ میں نگرانی کر رہے ہیں، پسینہ سر سے لے کر پاؤں تک جا رہا ہے، برستی بارش میں اگر کوئی نقصان کا خطرہ ہوا ہے تو کھڑے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ان کی یہ ہمت اور یہ فرض شناسی اور اموال سلسلہ کی دیانت سے خرچ کرنے کی مثال ہمارے لئے سبق ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ یہ تمام کام وہ آنریری طور پر کرتے تھے کوئی معاوضہ ان کاموں کا دنیا کے کسی سکتہ کی شکل میں لیا اور نہ خواہش کی۔سلسلہ کی قلمی خدمت حضرت میر صاحب قبلہ کو خدا تعالیٰ نے ذہن رسا عطا فر مایا تھا اور آپ شاعرانہ فطرت لے کر پیدا ہوئے