حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 27 of 104

حیاتِ ناصر — Page 27

حیات ناصر 27 مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان پیشگوئیوں کو سنتے تھے جو قادیان کی ترقی کے متعلق تھیں اور مشرق کی طرف آبادی کے بڑھنے کی قبل از وقت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع کو انہوں نے سنا۔سب سے پہلے اس پیشگوئی کو پورا کرنے میں حصہ لینے کے لئے ڈھاب میں بھرتی ڈلوانی شروع کی۔یہ بھرتی پڑ رہی تھی کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے بعض رفقاء لاہور سے آئے اور انہوں نے یہ دیکھ کر کہنا شروع کیا کہ میر صاحب سلسلہ کا روپیہ غرق کر رہے ہیں اپنی اپنی نظر اور اپنا اپنا ایمان ہے میں نہیں کہتا کہ ان لوگوں نے یہ اعتراض کسی نیست اور کس خیال سے کیا مگر اس میں شک نہیں کہ اعتراض کیا گیا۔حضرت میر صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی جیسا کہ سب کو معلوم ہے انہوں نے برافروختہ ہو کر جواب دیا کہ میں غرق کرتا ہوں تو تم سے لے کر نہیں حضرت صاحب کا روپیہ ہے تم کون ہو جو مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔جاؤ حضرت صاحب کو کہو۔“ میر صاحب کے اس جواب نے ان لوگوں کو خاموش کرادیا مگر وہ موقع کی تلاش میں رہے اور بالآخر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی کہدیا مگر حضرت اقدس نے ان کو یہی جواب دیا کہ میر صاحب کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہیے“ میر صاحب سے ان لوگوں کی عداوت یا مخالفت کی یہ ابتداء ہے۔بہر حال حضرت نانا جان نے بھرتیوں کے کام کو جاری رکھا۔اس وقت بھرتی بہت ستی پڑتی تھی روپوں کا کام پیسوں میں ہوتا تھا مگر عقل کے اندھوں کو اس وقت ایسا ہی معلوم ہوتا تھا کہ یہ روپیہ تباہ کیا جارہا ہے مگر آج کون کہہ سکتا ہے کہ وہ روپیہ ضائع کیا گیا بلکہ ہرشخص کو خواہ کیسا ہی دشمن سلسلہ ہو اعتراف کرنا پڑے گا کہ حضرت نانا جان نے اس وقت جو کام کیا وہ ان کی فراست ایمانی اور نظر دور بین کو ثابت کرنے والا ہے اور انہوں نے سلسلہ کی جائیداد میں بہت قیمتی اضافہ کر دیا۔حضرت نانا جان کی یہ ابتداء آخر رنگ لائی اور ہر شخص کو قدرتی طور پر خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس حصہ میں بھرتی ڈال کر یا بالفاظ خواجہ صاحب روپیہ فرق کر کے اپنے لئے تھوڑی سی جگہ بنالے۔ان بھرتیوں کی حقیقت آج ظاہر ہے اور اسی ڈھاب میں عالیشان عمارتیں اس طرح زمین بنانے والے ناصر نواب کے علم و تجربہ اور فراست کی داد دے رہی ہیں اور لوگ خواہش کرتے ہیں کہ کاش اس طرح ہم کو بھی روپیہ غرق کرنے کی عزت یا سعادت نصیب ہوتی۔