حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 29 of 104

حیاتِ ناصر — Page 29

حیات ناصر 29 تھے۔آپ شاعر تھے مگر آپ کی شاعری نے گل و بلبل اور زلف و کاکل کی پیچیدگیوں میں گرفتار ہونا کبھی پسند نہیں کیا تھا آپ جب بھی شعر کہتے تو خدمت دین کے جوش اور شوق سے کہتے اور ایسے کہتے جو اپنی سلاست کے ساتھ تاثیر میں ڈوبے ہوئے ہوتے تھے انجمن حمایت اسلام لاہور کا جب نی نیا دور شروع ہو لوگوں کو اس کی طرف قدرتی کشش تھی۔اس کے سالانہ جلسے بڑی دھوم دھام سے لاہور میں ہوتے تھے۔حضرت میر صاحب قبلہ بھی انجمن کے جلسہ میں شریک ہوئے اور آپ نے ایک نظم پڑھی۔پھولوں کی گرطلب ہے تو پانی چمن کو دے جنت کی گرطلب ہے تو زرانجمن کودے یہ نظم بہت پسند کی گئی اور انجمن کو اس نظم کے وقت بہت سارو پیہ وصول ہوا اور حضرت نانا جان کے لئے الدال على الخير كفاعلہ کا موجب۔میں اگر غلطی نہیں کرتا تو حضرت نانا جان نے پبلک جلسہ میں یہ سب سے پہلے نظم پڑھی تھی میں خود اسی جلسہ میں موجود تھا نہایت جرات اور مستقل مزاجی سے پڑھا۔جن لوگوں کو کبھی کسی مجلس یا مجمع میں پہلی دفعہ لیکچر دینے کا اتفاق ہوتا ہے خواہ وہ بڑے سے بڑے عالم بھی کیوں نہ ہوں بہت ہی کم دیکھا گیا ہے کہ گھبرانہ گئے ہوں۔مگر میر صاحب اس طرح پر اپنی نظم پڑھ رہے تھے کہ گویا وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوں اس سے ان کی قوت قلبی اور نفس مطمئنہ کا پتہ چلتا ہے۔دوسرا موقع حضرت میر صاحب کو جلسہ مذاہب میں اپنی نظم پڑھنے کا ملا۔اس نظم میں جلسہ کے اغراض و مقاصد کو نہایت خوبی سے بیان کیا۔اس کے بعد اپنی جماعت کے مختلف اجتماعوں پر آپ کو اپنی نظم سنانے کا موقع ملا۔ان نظموں میں ہمیشہ پند و نصائح ہوتی تھیں۔بعض نظمیں انہوں نے مظاہر قدرت پر بھی لکھی تھیں اور ایک نظم آپ نے الصدق ینجی و الکذب یھلک کے عنوان سے پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں شائع کرائی تھی۔یہ تو وہ زمانہ تھا جب کہ حضرت نانا جان سلسلہ کے متعلق ابتدائی منزلیں طے کر رہے تھے اس کے بعد ان پر دوسرا دور آیا اور وہ اخلاص کے ساتھ سلسلہ میں داخل ہوئے اور اب انہوں نے سلسلہ کے تلخ اور دشنام دینے والے دشمنوں کے جواب کے لئے اپنے خدا داد جو ہر سے کام لیا اور لدھیانہ کے ایک نہایت ہی گندہ دہن مخالف کے جواب کا تہیہ کیا۔حضرت نانا جان یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص سلسلہ کے خلاف ان کے سامنے کوئی بات کہہ دے اور وہ اس کا جواب نہ دیں۔اپنی شاعری سے بھی انہوں نے یہ کام لیا۔لدھیانہ میں جیسا کہ اوپر کہا ہے