حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 13 of 104

حیاتِ ناصر — Page 13

حیات ناصر 13 زلزلہ کے وقت نہایت اندیشہ ہوا کہ خدا جانے محمد اسمعیل کا کیا حال ہوا ممکن ہے زلزلہ میں کہیں کسی مکان کے تلے دب کر مر گیا ہو۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مرانہیں مجھے الہام ہوا ہے کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل وہ ڈاکٹر ہوگا۔محمد اسحاق کو دو دفعہ طاعون ہوا آپ کی دعا سے اچھا ہوا اور آپ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ یہ مرے گا نہیں۔ایک دفعہ تین چار گھنٹہ میں بخار بھی جاتا رہا اور گلٹیاں بھی دور ہو گئیں۔پھلی میں علالت اور حضرت کی دعا سے صحت مجھے ایک دفعہ سخت گردہ کا درد ہوا۔میں نے جب آپ کو بلایا تو دیکھ کر فور اوا پس ہو گئے۔تنہائی میں جا کر دعا شروع کر دی جس کا اثر فوراً ہوا اور یہ عاجزا چھا ہو گیا۔ایک دفعہ ہم سب حضرت مرزا صاحب کے ہمراہ دتی گئے وہاں میں سخت بیمار ہو گیا۔ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور محمد اسمعیل میرا بیٹا سخت پریشان ہو گئے۔حضرت صاحب نے مولوی حکیم نورالدین صاحب کو تار دیا کہ فوراً چلے آؤ وہ فوراً دتی چلے گئے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء فرما دی اور حضرت صاحب میرے تندرست ہونے سے بہت خوش ہوئے۔حضرت اقدس کی خدمت ابتدا میں جب کہیں حضرت صاحب باہر تشریف لے جاتے تھے تو مجھے گھر کی حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لئے چھوڑ جاتے تھے اور آخر زمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے تو بندہ بھی ہمرکاب ہوتا تھا چنانچہ جب آپ لاہور میں تشریف لے گئے جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا تب بھی بندہ آپ کے ہمراہ تھا اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا جس کے دوسرے روز آپ نے قبل از دو پہر انتقال فرمایا انا لله وانا اليه راجعون اب بڑی اور سخت تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی کہ جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔لے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذاتی خیال تھا جبکہ حضور کی نعش مبارک کو ریل میں لے کر جانے کے لئے آپ کے معالج ڈاکٹر سدر لینڈ پر نسپل میڈیکل کالج لاہور کی تصدیق پر افسر مجاز سول سرجن لا ہور ڈاکٹر منگھم نے سر ٹیفکیٹ دیا کہ حضور کی وفات اعصابی تھکان سے اسہال کی وجہ سے ہوئی تھی اس لئے ریل میں لے جایا جاسکتا ہے۔(ناشر)