حیاتِ ناصر — Page 14
حیات ناصر 14 یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ایک طرف تو ہم پر آپ کے انتقال کی مصیبت پڑی تھی دوسری طرف لاہور کے شورہ پشت اور بدمعاش لوگوں نے بڑا غل غپاڑہ اور شور وشر بپا کیا تھا اور ہمارے گھر کو گھیر رکھا تھا کہ ناگہاں سرکاری پولیس ہماری حفاظت کے لئے رحمت الہی سے آ پہنچی اور اس نے ہمیں ان شریروں کے دست تظلم سے بچا کر بحفاظت تمام ریلوے سٹیشن تک پہنچا دیا۔ہم سرکار دولتمدار انگریزی کے نہایت شکر گذار ہیں جس نے ہمیں امن دیا اور ہمارے کمینہ دشمنوں سے ہمیں بچایا۔ہم اسی رات کو حضرت صاحب کا جنازہ لے کر بٹالہ آپہنچے۔یہ واقعہ ۲۶ مئی ۱۹۸ ء کا ہے۔۲۷ کو قادیان میں پہنچ کر قبل از دفن ہم سب نے مولوی نورالدین کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی اس کے بعد آپ کا لقب خلیفتہ امیج مقرر ہوا۔اب میرے متعلق کوئی کام نہ رہا کیونکہ وہ کام لینے والا ہی نہ رہا دنیا سے اُٹھ گیا۔میر صاحب میر صاحب کی صدائیں اب مدھم پڑ گئیں بلکہ کئی اور میر صاحب پیدا ہو گئے۔شکر ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا غرور مجھ سے دور ہوا اور ناز جاتا رہا کیونکہ کوئی ناز بردارنہ رہا۔حضرت اقدس کی وفات کے بعد حضرت صاحب کی جدائی کے غم اور آپ کے سلسلہ کے کاموں سے سبکدوشی نے مجھے پریشان کر دیا۔اسی پریشانی میں اس عاجز نے ضعفاء قادیان کی حالت کو بے کسی کے عالم میں پاکر ان کی خدمت کے لئے مستعد ہو گیا اور تمام جماعت میں پھر کر مسجد نور ناصر وارڈو ہسپتال مردانہ و زنانہ اور دور الضعفاء کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا۔مسجد تو ایک سال سے زیادہ گذرا کہ تیار ہو گئی ہے اور ہسپتال کے واسطے دو سال گذر چکے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے سکرٹری صدر انجمن احمدیہ کے پاس تین ہزار روپیہ جمع کرا دیا ہے۔اب ہسپتال کے کا بنا نایا نہ بنانا مولوی صاحب موصوف کی مرضی اور اختیار میں ہے جب وہ چاہیں گے بنائیں گے میرے اختیار سے یہ بات باہر ہے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جلد بنادیں گے۔تین ہزار روپیہ دور الضعفاء کے واسطے اس وقت میرے پاس جمع ہے جس سے دس مکان بعد برسات انشاء اللہ تعالیٰ بنائے جائیں گے اور دس دیگر جب اور روپیہ جمع ہو جائے گا تو تعمیر ہوں گے کیونکہ میں مکانوں کی جگہ نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت صاحب کے باغ مولوی صاحب خلافت احمدیہ سے غدر کر کے لاہور جاچکے ہیں۔(عرفانی) اس وقت یہ ہسپتال نہایت شاندار بنا ہوا ہے اور مخلوق الہی کو بے حد نفع پہنچ رہا ہے (عرفانی) -۔دور الضعفاء بھی خوب آباد ہے (عرفانی)