حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 77 of 923

حیاتِ خالد — Page 77

حیات خالد 81 اساتذہ کرام حافظ صاحب کی عظمت اور سیرت کے ساتھ ساتھ شاگرد رشید کی سیرت پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے۔استاد و شاگرد کا ایسا قریبی تعلق اجاگر ہوتا ہے جو یقیناً اپنی مثال آپ ہے۔چند محبت بھری یا دیں“ کے عنوان سے آپ نے اپنے محبوب استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا : - نیک، ہمدرد اور خیر خواہ عالم استاد ایک عظیم نعمت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا چند محبت بھری یادیں خاص فضل ہے کہ مجھے اپنی دینی تعلیم کے آغاز سے ہی بہترین اساتذہ میسر آئے۔وہ ساعت کس قدر مبارک ساعت تھی جب میرے والد محترم حضرت میاں امام الدین صاحب مرحوم نے میری زندگی وقف کی اور مجھے حضرت چوہدری غلام احمد صاحب آف کر یام جالندھر کی معیت میں قادیان لے گئے اور حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ سے استصواب کے بعد انہوں نے مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرایا۔اس وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی مدرسہ احمدیہ کے افسر تھے۔مجھے تو وہ سارا واقعہ یاد ہونا ہی تھا مگر یہ کتنی پیاری بات ہے کہ حضرت میاں صاحب سلمہ ربہ کو بھی وہ کمرہ اور وہ منظر اب تک یاد ہے اور کچھ عرصہ قبل آپ نے اس داخلہ کے سماں کا بڑے پیارے الفاظ میں مجھ سے تذکرہ فرمایا تھا۔مدرسہ احمدیہ کے آٹھ سالہ دور تعلیم میں مجھے اپنے قابل صد احترام اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل ہوا جن میں سے حضرت پیر مظہر قیوم صاحب مرحوم، حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب مرحوم ، حضرت قاری غلام یاسین صاحب مرحوم حضرت ماسٹر محمد الفیل صاحب مرحوم، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر مرحوم، مولانا حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب مرحوم حضرت مولانا غلام نبی صاحب مصری مرحوم، حضرت مولا نا محمد اسماعیل صاحب ہلالپوری مرحوم حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم، حضرت قاضی امیرحسین صاحب مرحوم نیز جناب مرزا برکت علی صاحب، جناب مولوی ارجمند خان صاحب اور جناب مولوی عبد الرحمان صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان بزرگ ربانی علماء اور دردمند اساتذہ کی تعلیم و تربیت نے طلبہ کی علمی و عملی زندگی میں بیش بہا فائدہ پہنچایا ہے۔میں تو حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ کے قول مَنْ عَلَمَنِي حَرْفًا صِرْتُ لَهُ عَبْدًا کا قائل ہوں اس لئے ہمیشہ اپنے اساتذہ کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتا ہوں اور ان میں سے زندہ اساتذہ کی درازی عمر کیلئے دعا گو ہوں۔جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا مدرسہ احمدیہ کی آٹھویں جماعت مولوی فاضل تھی۔اسی جماعت میں پنجاب یونیورسٹی کا مولوی