حیاتِ خالد — Page 76
حیات خالد 80 اساتذہ کرام ذمہ ہے اہل علم پر اس کی دوہری ذمہ داری ہے۔لیکن حضرت حافظ صاحب جیسے عاشق دعوت الی اللہ کے شاگردوں کیلئے تو دوسرا کوئی میدان ہی نہیں ہونا چاہئے ہیں میں اپنے سب بھائیوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اپنے بے انتہاء خیر خواہ استاد کی آخری وصیت کو پورا کریں۔میری تجویز ہے کہ حضرت حافظ صاحب کی کوئی تبلیغی یادگار ہونی ضروری ہے خواہ بصورت رسالہ ہو یا بصورت لائبریری اور اس یادگار کو قائم رکھنے کیلئے آپ کے شاگردوں کے کندھوں پر اہم ذمہ داری ہے۔جو دوست میری تجویز سے اتفاق رکھتے ہوں وہ اس کی اطلاع دیں اور اس کیلئے کوئی عملی قدم اٹھا ئیں۔دوسرے دوست بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔خاکسار دلفگار اللہ دتا جالندھری قادیان ۲۴ جون ۱۹۲۹ء ای خاص نمبر میں قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک ارشاد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک قیمتی نوٹ بھی شامل اشاعت ہے۔جس میں آپ نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کے بارے میں نہایت اہم باتیں تحریر فرمائی ہیں اس مضمون میں آپ حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا ذکر یوں فرماتے ہیں :- " مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ رسالہ الفرقان کے موجودہ ایڈیٹر محترم مولوی ابوالعطاء صاحب کے متعلق ان کی طالب علمی کے زمانہ میں فرمایا کہ یہ نوجوان خرچ کے معاملہ میں کچھ غیر محتاط ہے مگر بڑا ہونہار اور قابل توجہ اور قابل ہمدردی ہے۔کاش اگر حضرت حافظ صاحب اس وقت زندہ ہوتے تو محترم مولوی ابوالعطاء صاحب اور محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس کے علمی کارناموں کو دیکھ کر ان کو کتنی خوشی ہوتی کہ میرے شاگردوں کے ذریعہ میری یاد زندہ ہے۔” خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے (الفرقان دسمبر ۱۹۶۸ء صفحه ۴ ) الفرقان کے اس خصوصی شمارہ میں حضرت مولانا نے اپنے اس استاد کو خصوصی محبت کے ساتھ والے میں۔نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے۔یہ ایک تفصیلی مضمون ہے جس میں بعض امور ایسے ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے لیکن یہ مضمون اس لائق ہے کہ اس کو مکمل طور پر اس جگہ درج کیا جائے۔اس مضمون کی خوبی یہ ہے کہ اس میں حضرت