حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 78 of 923

حیاتِ خالد — Page 78

حیات خالد 82 اساتذہ کرام فاضل کا امتحان دیا جاتا تھا۔ہم نے ۱۹۲۴ء میں یہ امتحان دیا۔اسی سال حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیج الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے یورپ کا پہلا تبلیغی سفر کیا۔اس سفر میں حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی حضور کے ہمرکاب تھے اور بطور انچارج ڈاک بھی کام کرتے تھے۔اسی دوران میں ہمارا مولوی فاضل کا نتیجہ شائع ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مین پنجاب یونیورسٹی میں اول آیا۔میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی خدمت میں لکھا کہ اول آنے کی وجہ سے مجھے یونیورسٹی کی طرف سے انگریز بھی کی تکمیل کیلئے تمہیں روپے ماہوار وظیفہ مل سکتا ہے اگر حضور کا ارشاد ہو تو میں وہاں داخل ہو جاؤں۔میری اس چٹھی کا جواب حضرت حافظ روشن علی صاحب کے دستخطوں سے موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ حضور فرماتے ہیں کہ :- " جسے ہم مسیحا نفس بنانا چاہتے ہیں اسے تمیں رو پے میں گرفتار کرانے کیلئے تیار نہیں۔مولوی فاضل کے امتحان کے بعد مجھے چند ماہ تک نظارت تصنیف میں کام کرنے کا موقع ملا اور پھر استاذنا المحترم حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس مبلغین کلاس میں داخل ہو گیا۔ہم سے پہلے مولوی جلال الدین صاحب والی کلاس پاس ہو چکی تھی۔مبلغین کلاس در حقیت تبلیغی ٹریننگ کی کلاس تھی اور اکیلے حضرت حافظ صاحب ہی اس کے جملہ مضامین پڑھانے والے واحد استاد تھے۔جس محبت ، خلوص اور جذبہ خدمت دین کے ماتحت یہاں تعلیم دی جاتی تھی وہ نرالی چیز تھی۔استاد استاد نہ تھا انتہائی شفیق والد تھا۔پھر کیا تھا، نہ وقت کی قید تھی نہ مکان کی پابندی مسجد ہو، بازار ہو، جنگل ہو یا آبادی ہر جگہ مدرسہ تھا اور ہر گھڑی سلسلہ تدریس شروع تھا۔اب پڑھائی بوجھ نہ تھی بلکہ روح کیلئے غذا تھی۔حضرت حافظ صاحب کے پاس بطور متعلم آنے سے پیشتر بھی میں مضامین لکھتا تھا ، تقریریں کرتا تھا اور مباحثات بھی کیا کرتا تھا مگر اب تو دن رات کا یہی مشغلہ تھا اور پھر اس پر حضرت حافظ صاحب کی حوصلہ افزائی اور علمی رہنمائی بہت ہی بابرکت چیز تھی۔ایک دن ہمارے بزرگ استاد شیخ الحدیث حضرت قاضی امیرحسین صاحب جبکہ میں حکیم نظام جان صاحب کی دکان میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کہ اب سب لوگ کہتے ہیں کہ تم حافظ روشن علی صاحب کے شاگرد ہو ہماری استادی کید بر گئی ؟ پنجابی الفاظ کیا ہماری استادی گھرل ہو گئی ہے۔فرماتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ حضرت! ہم تو پہلے آپ کے شاگرد ہیں لوگ اگر ایسا کہتے ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے۔بلاشبہ ہم سب اساتذہ کے شاگرد ہیں اور ان کے احسانوں کا بدلہ نہیں دے سکتے۔مگر جو رنگ حضرت حافظ روشن علی