حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 628 of 923

حیاتِ خالد — Page 628

حیات خالد 623 حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی المناک رحلت پر تعزیتی قرار دادیں آخری ایام حضرت مولانا کی وفات پر مختلف جماعتی اداروں نے قرار داد ہائے تعزیت پاس کیں۔ان میں سے چند قرارداد میں بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں۔صدر انجمن احمدیہ کا یہ غیر معمولی اجلاس صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ کی قرارداد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل کی وفات پر اپنے گہرے رنج و حزن اور صدمہ کا اظہار کرتا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ حضرت مولوی صاحب سلسلہ کے ایک ممتاز بزرگ، نامور عالم اور مبلغ ، بلند پایہ خطیب اور مناظر اور اعلیٰ درجہ کے مصنف اور صحافی تھے۔اوائل عمر سے ہی انہوں نے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی زیر قیادت خدمات سلسلہ کی نمایاں توفیق پائی اور وفات تک وہ اپنے فرائض کو بدرجہ احسن ادا کرتے رہے۔انہوں نے بلا دعربیہ میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کی۔رسالہ البشری جاری کیا۔برصغیر پاک و ہند میں ہزار ہا تبلیغی دورے کئے۔جامعہ احمدیہ اور جامعہ المہشرین میں بطور پرنسپل کام کیا۔مجلس کار پرداز کے صدر اور ایڈیشنل ناظر و اصلاح دارشاد ( تعلیم القرآن ) کی حیثیت سے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔تبلیغی اور علمی میدان میں صف اول کے مجاہد تھے۔رسالہ " الفرقان ان کی علمی خدمات کا ایک خاص نشان ہے۔ان کی انہی خدمات اور شاندار کارناموں کی بناء پر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں ” خالد کے عظیم الشان خطاب سے نوازا۔وہ فی الحقیقت احمدیت کے ایک جانباز ، وفادار اور کامیاب سپاہی تھے۔اپنے علم اور تقویٰ اور خدمات دینیہ کی وجہ سے ان کی وفات ساری جماعت کے لئے ایک بہت بڑے صدمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے پسماندگان اور سب احباب جماعت کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور خدمات سلسلہ کی شاندار مثال جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں اسے قائم اور دائم رکھنے کی ہم سب کو توفیق بخشے۔آمین۔ممبران صدر انجمن احمد به پاکستان۔ربوہ (روز نامه الفضل ربوه ۳/ جون ۱۹۷۷ء صفحه اول)