حیاتِ خالد — Page 629
حیات خالد 624 آخری ایام مجلس تحریک جدید کا یہ ہنگامی اجلاس سلسلہ احمدیہ کے تحریک جدید انجمن احمد یہ پاکستان متاز عالم اور بزرگ استاد حضرت مولانا ابواعطاء صاحب مرحوم کی وفات پر اظہار رنج وغم کے لئے منعقد کیا گیا ہے جو ۲۹ ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ ء کی درمیانی رات مختصری علالت کے بعد اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ حضرت مولانا بچپن سے ہی علمی، دینی اور جماعتی کاموں میں پورے انہماک سے تادم آخر مصروف رہے۔زمانہ طالبعلمی میں ہی آپ کی اہلیت اور تقویٰ شعار زندگی کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔آپ نے سلسلہ کے ممتاز و جید علماء کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا جن کی بے لوث توجہ اور کوشش نے خود حضرت مولانا کو جلیل الشان مبلغ، قابل مناظر اور لائق مصنف بننے میں اہم کردار ادا کیا۔آپ نے ۱۹۲۴ء میں نہایت امتیاز کے ساتھ مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد ان کی زندگی کا ہرلمحہ خدمت اسلام اور جماعتی و دینی کاموں کے لئے وقف رہا۔آپ نے کامیاب مبلغ ، استاد و پرنسپل جامعہ احمد یہ و جامعتہ الموشرین اور ایڈیشنل ناظر کی حیثیت سے قابل رشک خدمات سرانجام دیں۔آپ بہت عرصہ تک مجلس کار پرداز کے صدر اور مجلس انصار اللہ کے نائب صدر رہے۔آپ کی دینی اور علمی خدمات کا ریکارڈ قابل فخر ہے۔آپ نہایت درجہ تقوی شعار، ہمدرد خلائق خادم سلسلہ تھے۔اپنی خدمات کی بنا پر آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خالد احمدیت کے خطاب سے نوازا۔حضرت مولانا نے نہ صرف یہ کہ خود اپنی زندگی کا ہر لمحہ خدمت دین میں بسر کیا بلکہ اپنی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے وقف کر کے ایک قابل تقلید نمونہ قائم فرمایا۔اس وقت آپ کے تین صاحبزادگان بیرون ملک خدمت اسلام کا فریضہ بجالا رہے ہیں۔آپ اس درجہ مقبول اور ہمدرد انسان تھے کہ جو نہی حضرت مولانا کی وفات کی خبر پھیلتی گئی اہل ربوہ جوق در جوق آپ کے دولت کدہ پر تعزیت کیلئے جمع ہونے شروع ہو گئے۔آپ کی خدمات اور ذاتی خصائل حمیدہ نے لوگوں کے دلوں میں اس قدر جگہ بنالی تھی کہ کثیر تعداد میں احباب جماعت نے ربوہ آکر آپ کے جنازہ میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔آپ کی وفات واقعہ میں موت العالم ثابت ہوئی۔۳۰ رمئی کو میدان تبلیغ کا یہ کامیاب مبلغ اور سلسلہ احمدیہ کا جید عالم مغرب کے بعد مقبرہ بہشتی ربوہ میں سپرد خاک کیا گیا۔جہاں ہزاروں سوگوارا احباب و اعزہ نے حضرت مولانا کے جنازہ و تدفین میں شامل ہو کر انہیں عقیدت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو غریق رحمت