حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 492 of 923

حیاتِ خالد — Page 492

حیات خالد 490 تصنيفات محض تمسخر اور استہزاء کا رنگ دے دیا گیا تھا۔لیکن عشرہ کاملہ کے مطالعہ سے مجھ پر یہ اثر ہوا کہ اس کتاب کے مصنف نے نسبتاً شرافت اور دیانتداری کے ساتھ جماعت احمدیہ کے عقائد کی تردید کی کوشش کی ہے۔اس کتاب کا جواب تمہیمات ربانیہ میں مجھے جلد میسر آ گیا جس کو پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا کیونکہ جواب نہایت سلیس اور عام فہیم پیرایہ میں تھا۔نہ صرف دلائل کے لحاظ سے جواب مسکت تھا بلکہ تحریر سے ایک خاص روحانی رنگ ظاہر ہو رہا تھا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اس تصنیف کو زیادہ سے زیادہ طالبان حق کے لئے مفید ثابت کرے۔آمین (۹) جناب مولانا محمد صادق صاحب فاضل مبلغ سماٹرا تحریر فرماتے ہیں :- تفہیمات ربانیہ تصنیف لطیف مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل زادہ اللہ مجد اور فعہ میں نے اس کتاب کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھا ہے۔یہ کتاب عشرہ کاملہ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔کتاب کی نظامت کو دیکھ کر جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے۔ایک عام آدمی پہلے گھبراہٹ محسوس کرتا ہے لیکن جو نہی وہ اس کا مطالعہ شروع کرتا ہے اس کے پڑھنے کا شوق بڑھتا ہی چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے الفاظ نہایت شستہ اور دلائل نہایت پختہ ہیں۔مولانا کی خداداد قابلیت اور ٹھوس علمیت کے سبب کتاب کی اتنی بڑی ضخامت کے باوجود کسی کو آپ کے قلم کی رکاوٹ اور دماغ کی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا اور کوئی شخص اس کے مطالعہ کے وقت اپنی طبیعت کے اندر کسی قسم کی اکتاہٹ اور ملال نہیں پاتا۔ایک سوال کے متعدد جواب جن میں سے اکثر تحقیقی اور بعض الزامی بھی ہیں اپنے تنوع کی وجہ سے دماغی تھکاوٹ کو دور کرتے جاتے ہیں۔بعض دفعہ نہیں بلکہ اکثر دفعہ اُردو زبان کے محاورات اور ضرب الامثال کا ذکر بشاشت کا باعث بن جاتا ہے۔چنانچہ جب میں یہ کتاب پڑھ رہا تھا۔تو لو مینڈ کی کو زکام ہوا کا محاورہ پڑھ کر میں بے اختیار ہنس پڑا۔پھر مناسب جگہ پر شعر بھی پیش کرتے ہیں جو روح انسانی کی تازگی کا ایک ذریعہ ہے۔مولانا کو خدائے تعالیٰ نے یہ ملکہ بھی بخشا ہے کہ وہ ان باتوں میں بھی ایک جدت پیدا کر دیتے ہیں جنہیں پہلے بار بار دہرایا گیا ہے۔مثلاً محمدی بیگم اور عبد اللہ آنتم والی پیشگوئی اور مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ گوان پر پہلے بھی بہت کچھ لکھا جا چکا تھا لیکن آپ نے اس کتاب میں ان پیشگوئیوں پر اس طریق سے بحث کی ہے جو نہایت ہی عام فہم ہے۔حتی کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی اسے خوب سمجھ سکتا اور اس سے مطمئن ہو سکتا ہے۔