حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 493 of 923

حیاتِ خالد — Page 493

حیات خالد 491 تصنیفات پھر آپ کی ایک یہ بھی پسندیدہ عادت ہے کہ نئے نئے حوالہ جات پیش کرتے رہتے ہیں اور میرا تجربہ یہ ہے کہ آپ کے حوالہ جات نہایت صحیح ہوتے ہیں کم از کم تمہیمات ربانیہ جیسی ضخیم کتاب میں مجھے کوئی غلط حوالہ نہیں ملا۔جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ اپنی تصانیف میں کوئی حوالہ خود ملاحظہ کئے بغیر درج نہیں کرتے۔الغرض تمہیمات ربانیہ ہر احمدی کے لئے ایک علمی خزانہ ہے اور ہر احمدی مجاہد کے لئے ایک مضبوط ڈھال بلکہ تیز ہتھیار ہے اور ہر حق کے متلاشی کے لئے قابل قدر نعمت ہے۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مولانا المکرم کی عمر بصحت، اخلاص و علم میں زیادہ سے زیادہ برکت بخشے تا کہ وہ ہمیشہ ہمیں ایسے مفید مواد سے مستفید فرماتے رہیں۔آمین یا رب العالمین“۔(۱۰) محترم جناب مولانا ظہور حسین صاحب فاضل سابق مبلغ بخار اتحریر فرماتے ہیں۔"کتاب تفہیمات ربانیہ مؤلفہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل ایک اہم تصنیف ہے جس میں قرآن کریم اور احادیث سے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ والہ السلام پر سیر کن بحث کی گئی ہے اور غیر احمدی علماء کے تمام اعتراضات کے نہایت عمدگی سے محققانہ جوابات دیئے گئے ہیں اور اس تصنیف منیف کا ہر احمدی کے واسطے اپنے لئے اور بچوں کیلئے مطالعہ ضروری ہے۔اور جیسا کہ اس کتاب کا نام ہے ویسے ہی یہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی توفیق سے بہت دلکش پیرائے میں لکھی گئی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ کر کے ہر احمدی نوجوان بھی اطمینان اور جرات کے ساتھ غیر احمدی علماء سے احمدیت کے متعلق تبادلہ خیالات کر سکتا ہے۔سو احباب کو چاہئے کہ وہ اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو کر اپنے زیر اثر احباب کو اس سے مستفید ہونے کی تحریک کریں“۔(تفہیمات ربانی طبع دوم ۱۹۶۴ء صفحه ۸۰۱ تا ۸۰۸) (11) مکرم مولانا عطاء الکریم شاہد صاحب تحریر کرتے ہیں :- مکرم مرزا عبدالرحیم بیگ صاحب مرحوم نائب امیر جماعت احمد یہ کراچی نے خاکسار کو یہ ایمان افروز واقعہ ایک سے زائد مرتبہ سنایا کہ ایک مرتبہ کراچی کے سابق امیر مکرم چوہدری عبد اللہ خان صاحب نے کسی مقتدر شخصیت کو ان کے جماعت کے بارہ میں سوالات کے جواب کی غرض سے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی مشہور تالیف ”تفہیمات ربانیہ پیش کرنا چاہی مگر اس وقت دستیاب نہ تھی۔انہوں نے بیگ صاحب کو ہدایت کی اور بیگ صاحب نے گھر پر اپنے والد صاحب کی لائبریری سے اٹھا کر تقسیمات کا