حیاتِ خالد — Page 491
حیات خالد 489 تصنیفات نے اسے پڑھ کر فرمایا تھا کہ محترم مولانا ابو العطاء صاحب نے دفاع احمد بیت کے سلسلہ میں یہ اتنا بڑا کام کیا ہے کہ رہتی دنیا تک مجاہدین احمدیت آپ کے مرہون منت رہیں گے۔پس واقفین زندگی اور تبلیغ احمدیت سے دلچپسی رکھنے والے احباب کو چاہئے کہ اس کتاب کو حاصل کر کے ایک کارآمد تبلیغی ہتھیار کو اپنے قبضہ میں کرلیں۔(۷) جناب مولوی غلام باری صاحب سیف پروفیسر جامعہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- تقسیمات ربانیہ ہمیشہ درجہ مبلغین کے نصاب میں رہی ہے۔ایک واقعہ کی وجہ سے میں اس کو کبھی نہیں بھول سکتا۔طالب علمی کے دوران اس کے نوٹ بہت تفصیل سے میں نے لئے تھے۔غالباً ۱۹۴۴ء میں گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں مناظرہ تھا۔ہماری طرف سے محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مناظر تھے۔فریق ثانی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک اعتراض کیا اور ایک دو بار اس کے جواب کا مطالبہ کیا۔اس پر میں نے تفہیمات ربانیہ کے نوٹوں میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر خادم صاحب کی خدمت میں پیش کی کہ حضور نے اس کا یہ جواب دیا ہے۔مجھے آج تک یاد ہے کہ خادم صاحب مرحوم نے اس میری کالی سے حضور علیہ السلام کی عبارت پڑھ کر سنا دی۔اور یہ میں نے تفہیمات سے ہی نوٹ لئے تھے۔جس کتاب کا جواب استاذی امحترم نے دیا تھا اس کتاب پر غیر احمدی حلقوں کو بڑا ناز تھا۔میرے ایک تا یا سلسلہ کے بہت معاند تھے۔وہ یہ کتاب عشرہ کاملہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔تبلیغ سے دلچسپی رکھنے والے تمام دوستوں کو تمہیمات ربانیہ کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے اور اپنے پاس رکھنا چاہئے۔خدا کا شکر ہے کہ مولا نا محترم اس نایاب کتاب کو دوبارہ احباب کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں“۔(۸) محترم چوہدری عزیز احمد صاحب بی۔اے نائب ناظر بیت المال تحریر فرماتے ہیں :۔" مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ تمہیمات ربانیہ دوبارہ چھپوا ر ہے ہیں۔اس کتاب کی افادیت کا مجھ پر گہرا اثر ہے۔جب میں ۱۹۳۷ء میں احمدی ہوا تو میرے والد مرحوم کے ایک دوست جناب مولوی پیر محمد صاحب وکیل منگلوی نے مجھے عشرہ کاملہ مطالعہ کے لئے دی۔کچھ عرصہ قبل ایک رشتہ دار کے کہنے پر برنی صاحب کی تصنیف ” قادیانی مذہب " پڑھ چکا تھا۔اور اس کتاب نے اس وجہ سے میری طبیعت منقض کر دی تھی کہ اس میں دلائل کے ساتھ جماعت احمدیہ کے عقائد کی تردید کرنے کی بجائے نہایت چالا کی اور شر پسند طریق پر حوالہ جات کو سیاق وسباق کی فضا سے الگ کر کے