حیاتِ خالد — Page 409
حیات خالد 404 پاکستان کی قومی اسمبلی میں سے انہوں نے کچھ چن لئے کچھ چھوڑ دیئے۔میرا خیال ہے کہ ۳۰۰ کے قریب سوال تھے اور جب سوال ہوتے تھے تو ان کا تفصیلی جواب دیا جاتا۔اس کے بعد وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ غالبا مرزا صاحب کو سوالات کا پتہ ہے۔سوالات کا پہلے سے علم ہو رہا ہے اور وہ کوشش کرتے تھے کہ ایسا سوال آ جائے کہ پہلے ان کو علم نہ ہو۔ان سوالات کا ہم کو کس طرح علم ہونا تھا؟ ایک کتاب ہم کو مل گئی جس میں سے انہوں نے سارے سوالات نقل کئے تھے۔محمدی بیگم کا ثنا اللہ کا عبدالحلیم کا ، انگریز کا ، جہاد کے متعلق۔کوئی موضوع چھوڑا انہیں انہوں نے۔حضرت صاحب کی پوری تیاری تھی۔کوئی بات نئی نہیں تھی۔حوالے ہم لوگ لے جاتے تھے۔جو حوالہ دکھانا ہوتا تھا جھٹ نکالا اور سامنے پیش کر دیا۔مولوی دوست محمد صاحب بہت ہوشیار ہیں اس بارے میں۔میں بھی کچھ ان کی مدد کرتا تھا۔یہ سوال اور ان کے جواب ریکارڈ ہیں۔انہوں نے ہم کو تو دیئے نہیں اور ہم نے دو دفعہ ان سے مانگا ہے کہ یا تو آپ شائع کریں یا ہم کو شائع کرنے کے لئے دے دیں۔نہ وہ خود شائع کرتے ہیں اور نہ ہمیں شائع کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔تحریری طور پر انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ نہ ہم شائع کریں گے اور نہ آپ شائع کریں۔ہمارے لئے مجبوری ہے اس لئے ہم شائع نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ مولوی مفتی محمود صاحب نے ایک بڑا راز آؤٹ کر دیا۔ان کی کراچی میں دعوت کی گئی۔حج پر سے آئے تھے یا جا رہے تھے۔ایک استقبالیہ ان کے اعزاز میں دیا گیا ان کو کہا گیا کہ آپ لوگوں نے بڑا کارنامہ کیا ہے۔یہ جو قومی اسمبلی کا ۱۹۷۴ء کا فیصلہ ہے۔اس پر انہوں نے جو بیان دیا وہ بیان اخبار ” لولاک میں چھپ چکا ہے۔اس بیان میں اِن مولوی صاحب نے کہا میں آپ کو کیا بتاؤں کہ کس مشکل سے ہم گزرے ہیں۔جب مرزا صاحب آتے تھے، شملہ دار پگڑی اور اچکن پہنے ہوئے، اور آتے ہی السلام علیکم کہتے تھے۔ہمارے نمبر جو دیندار نہیں وہ ہمیں دیکھ دیکھ کر کہتے تھے کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ شخص مسلمان نہیں ہے۔یہ تو بہترین مسلمان ہے۔اور جب بیان پڑھتے تھے تو آیتیں قرآن کریم کی پڑھتے تھے۔حضور ﷺ کی احادیث پڑھتے تھے۔جب حضور ﷺ کا نام آتا تو صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے۔سارے ممبر ہمیں گھورتے تھے اور کہتے تھے کہ مولوی لوگوں نے کیا کیا ہے۔کیا پاکھنڈ بنالیا ہے اور جب حضرت صاحب نے فتوے سنائے کہ شیعوں نے سنیوں کو یہ کہا۔اور سنیوں نے شیعوں کو یہ کہا اس وقت ممبروں کی حالت یہ ہوتی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ مولویوں کا ہی کام رہ گیا ہے یہ سب کو کافر قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں تو بڑی مشکل میں پڑ گیا اور اتنا پریشان ہوا ( پریشانی کا لفظ