حیاتِ خالد — Page 408
حیات خالد 403 پاکستان کی قومی اسمبلی میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں حضرت مولانا ابوالعطا ء صاحب جالندھری کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے وفد میں شامل ہونا تھا۔قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کا جو وفد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی سرکردگی میں پیش ہوا اس کے اراکین وفد میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر، حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری اور محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مؤرخ احمدیت شامل تھے۔اسمبلی ۱۹۷۴ ء کی کہانی تہران ایران کے دورے ۱۹۷۶ء میں ایک محفل میں مکرم محمد افضل صاحب کے گھر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے قومی اسمبلی ۱۹۷۴ء کی کارروائی کے بارے میں کچھ باتیں بتا ئیں۔یہ باتیں کیسٹ پر ریکارڈ کی گئی تھیں۔ریکارڈنگ کا معیار ربع صدی گزرنے کے بعد اچھا نہیں رہا تاہم اس سے جو کچھ اخذ کیا جا سکا وہ حتی الوسع حضرت مولانا کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔حضرت مولانا نے فرمایا:- جب سوالات شروع ہوئے تو اٹارنی جنرل یکی بختیار صاحب نے کہا کہ سوالات میں کروں گا۔یہ سوالات ساری قوم کے ہیں، اسمبلی کے ممبروں کے ہیں، علماء کے ہیں، انہوں نے مجھے لکھ کر دیئے ہیں۔یہ میں آپ کو ایک ایک کر کے پیش کروں گا۔آپ کو اختیار ہے چاہے تو آج ہی جواب دے دیں، چاہے کل دے دیں، پرسوں دے دیں کیونکہ اس میں بہت سے حوالے ہیں۔آپ کو حق ہے جب چاہیں اس کا جواب دیں۔وہ کھڑے ہو کر سوال کرتے تھے حضرت صاحب کرسی پر بیٹھے رہتے تھے اور جواب دیتے تھے۔یہ دیکھ کر مولویوں نے کہا کہ یہ ہمیں مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ اٹارنی جنرل تو کھڑے ہو کر سوال کریں اور مرزا صاحب بیٹھ کر جواب دیں اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ کوئی ملزم تو نہیں ہیں ہم نے ان کو معلومات حاصل کرنے کے لئے بلایا ہے۔اس لئے ان کی مرضی ہے کہ بیٹھ کر جواب دیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری تو ڈیوٹی ہے مجھ کو تو عادت ہے کھڑے ہو کر بات کرنے کی۔اس لئے میں تو شوق سے کھڑا ہوتا ہوں۔کوئی پانچ سو کے قریب سوالات ان کو لکھ کر دیئے گئے۔ان میں