حیاتِ خالد — Page 410
حیات خالد 405 پاکستان کی قومی اسمبلی میں استعمال کیا ) کہ مجھے رات کو تین تین بجے تک نیند نہ آتی تھی۔ان مہروں کی حالت تو یہ تھی کہ کئی ممبر جب ہوسٹل میں جاتے تھے تو بعض ہمارے آدمیوں سے ان کی ملاقاتیں ہوتی تھیں۔بعض نے ان میں سے کہا کہ ہمارا دل تو چاہتا ہے کہ مرزا صاحب کی بیعت ابھی کر لیں۔ایک نے کہا کہ میں بیعت تو کر لوں مگر مفتی محمود ہمارے علاقے کا ہے وہ ہمیں وہاں جینے نہیں دے گا۔ایک مولوی صاحب ایک دن وہاں سے باہر نکل رہے تھے۔ایک دوست تھے ہمارے، ان کی بالکل غیر احمد یوں والی شکل بنی ہوئی تھی۔اسمبلی ہال سے باہر مولوی صاحب نکلے تو جا کر مصافحہ کیا۔دس روپے کا نوٹ ان کو نذرانہ پیش کیا۔اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب یہ تو بتا ئیں اندر کیا ہو رہا ہے ہم لوگ تو یہاں باہر بیٹھے بیٹھے تھک گئے ہیں۔آپ لوگوں نے مرزائیوں کا کیا کیا ہے۔کہنے لگا کہ جی کرنا کیا ہے۔کسی کی مرزا صاحب کے سامنے دال نہیں ملتی۔بات ہی نہیں بنتی۔اور ہر ایک ہم سے یہی چاہتا ہے کہ میں افلاطون بنوں۔بات کرنی نہیں آتی۔میں تو وہاں سے ناراض ہو کر آ گیا ہوں۔ایک دفعہ اٹارنی جنرل حضرت صاحب کو کہنے لگے، مرزا صاحب کوئی بات نہیں اگر آپ کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔گورنمنٹ آپ کو پروٹیکشن دے گی اور آپ کی حفاظت ہو جائے گی۔حضرت صاحب نے کہا ہمیں گورنمنٹ کی پروٹیکشن کی ضرورت نہیں۔ہم خدا کی حفاظت میں ہیں اس لئے ہمیں اس مسئلے سے کوئی غرض نہیں ہے۔گوجرانوالہ اور بعض اور جگہ جو پروٹیکشن ہمیں دی گئی ہے اس پر تو گورنمنٹ کو یہ بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ایک کلمہ مذمت کا ہی کہہ دیتی۔ایک دن اٹارنی جنرل صاحب کہنے لگے۔مرزا صاحب! کل سوالات عربی میں ہوں گے۔مولوی ظفر انصاری صاحب سوالات کریں گے۔کیونکہ عربی کی عبارتیں میں تو نہیں پڑھ سکتا۔وہ پڑھیں گے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔آپ نے تو اعلان کیا تھا کہ آپ ہی سوالات کریں گے۔کہنے لگے ہاں میں نے کہا تو یہی تھا۔مگر اب مجبوری ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا پھر مجھے بھی اختیار ہے کہ میں بھی اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو نا مزد کر دوں۔اٹارنی جنرل صاحب کہنے لگے ہاں آپ کو اختیار ہے۔حضرت صاحب نے اعلان کر دیا کہ کل ابوالعطاء صاحب میری طرف سے جواب دیں گے۔خیر ہم آگئے۔آکر ہم رات بھر تیاری کرتے رہے۔انہوں نے کہا تھا کہ تفسیر قرآن کے بارے میں سوال کریں گے۔اگلے دن گئے۔حضرت صاحب نے بیٹھتے ہی فرمایا کہ پہلے میں چند لفظوں میں اصولی باتیں بیان کروں گا جو