حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 321 of 923

حیاتِ خالد — Page 321

حیات خالد 320 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام سے کام کرتے ہیں اس کا مقابلہ دنیا کے کسی ملازم سے نہیں کیا جا سکتا۔خواہ اس کے سر پر کیسا ہی جبار افسر کیوں نہ ہو۔وہ اپنی نگرانی خدا تعالیٰ کے خوف سے پر ہو کر خود کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ بسا اوقات آنے والوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ اس قدر لمبا ہوا کہ سارا دن گزر گیا اور رات کے بھی بارہ بج گئے اور کھانے پکانے کی نوبت تو ایک طرف رہی بازار سے منگوا کر کھانے کی بھی نوبت نہیں آئی اور رات کو جب فرصت ہوئی اس وقت دوکانیں بند ہو چکی تھیں تو ان مجاہدین نے گزشتہ دنوں کے بچے ہوئے سوکھے ٹکڑے چائے کے گرم گھونٹ سے کھا کر رات بسر کر لی۔یہ بے شک قربانی ہے اور مجسم قربانی ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر صرف اس کام کو دیکھتے ہیں جو ہم کو ان اشخاص کی شکل میں نظر آتا ہے جو سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہی ایک معیار کسی مبلغ کی خدمت کے جانچنے کا ہے۔حالانکہ یہ معیار کبھی کسی مبلغ کی محنت اور سعی کو ظاہر نہیں کر سکتا۔اور ہم اس ایک طریق سے اس کی قربانی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ہمارا صحیح اندازہ اس کی زندگی اور اس کے حالات پر نظر کرنے سے ہی لگ سکتا ہے۔مولانا ابوالعطاء کی ساڑھے چار سالہ زندگی بالکل ان واقعات کی سچی تصویر ہے۔میں کسی شخص کی بے جا تعریف گناہ خیال کرتا ہوں۔مگر ایک مجاہد دین کی خدمت کا اعتراف اپنا فرض خیال کرتا ہوں۔میں سچ کہتا ہوں کہ مولانا ابو العطاء اور مولا نائٹس جس مصروفیت سے سلسلہ کا کام کرتے رہے ہیں اس کا تقاضا تھا کہ وہ اپنی صحت کے لئے روزانہ کچھ نہ کچھ وقت سیر یا ورزش کے لئے نکالیں۔مگر وہ کئی کئی ماہ تک بھی ایسا وقت پیدا نہیں کر سکتے تھے۔مجھے ان ہر دو مبلغین کے ساتھ قاہرہ میں رہنے کا اتفاق ہوتا رہا۔میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے قاہرہ کے ایک دو نہیں متعدد مقامات ایسے چھوڑے ہیں جن کو لوگ دور دراز سے آکر دیکھتے ہیں۔مگر انہوں نے ان کو ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا۔یہ کیوں؟ اس لئے کہ اعلائے کلمتہ الاسلام کا جو جذبہ حضرت امام نے ان کے اندر پیدا کیا ہے وہ موجود تھا اور کبھی بھی وہ اس جذبہ سے الگ نہیں ہوئے۔اگر چہ مولا نائٹس کے زمانے میں دمشق، فلسطین ، مصر میں با قاعدہ جماعت کی تعمیر کا کام جماعتیں قائم ہو چکی تھی اور بعض دیگر مقامات پر بھی بچ ڈالا جا چکا تھا اور کسی جگہ ایک اور کسی جگہ دو آدمی اور کسی جگہ اس سے زیادہ سلسلہ میں داخل ہو چکے تھے اور بہت سے کام ابتدائی حالت میں تھے۔جیسے تعمیر مسجد اور مدرسہ احمدیہ وغیرہ۔مولانا ابوالعطاء نے سب سے پہلا