حیاتِ خالد — Page 320
حیات خالد 319 بلا دگر بیہ میں تبلیغ اسلام میں چٹان کی طرح کھڑے رہے۔انہوں نے نہ اپنی عادات کو بدلا نہ اپنے لباس کو بدلا اور نہ حسن بے پردہ کی طرف نگاہ کی اور اپنے طرز عمل سے پاکیزگی اور عفت کے اعلیٰ مقام پر جھے رہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نظیر آج دنیا میں مل نہیں سکتی۔ہماری جماعت پاکیزگی پھیلانے کے لئے پیدا ہوئی ہے۔پس یہ لوگ پاکیزگی کے علمبردار ہوتے ہیں۔میں نے بار ہا مولا نائٹس اور مولانا ابو العطاء سے بازاروں اور سڑکوں پر چل کر اور دوکانوں میں بیٹھ کر دیکھا کہ ان کی آنکھ کبھی اِدھر اُدھر نہیں اُٹھی۔جوانی اور تجرد کا عالم ہو۔پھر حسن بے پردہ کی ایسی جلوہ آرائیاں ہوں وہ ساری طاقتوں اور قوتوں سے ننگا ہو کر ظاہر ہو کر نکل آیا ہو۔مگر اس گھمسان میں ایک نوجوان سالہا سال کھڑار ہے اور ایک نظر اٹھا کر اس کی طرف نہ دیکھے یہ اخلاقی معجزہ صرف اور صرف اس زمانے کے راستباز اور اس کے پاک جانشین کا ہے ورنہ دنیا کی ہر ایک چیز اپنی طرف آن واحد میں جذب کر لیتی ہے۔ہمارے مبالغین کا صرف یہی مقام نہیں کہ وہ خود پاکیزگی کے مقام پر کھڑے رہتے ہیں بلکہ وہ ان ممالک میں ایک بہت بڑے لائٹ ہاؤس بنے ہوئے ہیں جن سے قو میں رستگاری حاصل کر رہی ہیں۔وہ اپنا تمدن ، اپنے عادات، اپنا لباس اپنے ملک کے کھانے ، اپنی عفت، اپنی طہارت، ان لوگوں میں چھوڑ رہے ہیں۔یہی نہیں بلکہ ہندوستان سے ایک قسم کی محبت اور عشق کا جذبہ بھی ان کے دل میں پیدا کر دیتے ہیں۔میں نے بارہا ان لوگوں کو پگڑیاں پہنتے دیکھا۔میں نے ان کو ہندوستانی کھانوں کے متعلق پسندیدگی کا اظہار کرتے دیکھا۔میں نے ان نو جوانوں کو جو دن میں دو دفعہ داڑھی منڈواتے تھے دیکھا کہ انہوں نے داڑھیاں رکھ لیں۔میں نے ان میں نعض بھر جس کا پہلے نشان تک نہ تھا۔پیدا ہوتی ہوئی دیکھی اور یہی نہیں بلکہ اپنے پرانے دوستوں کے قیقے اور تمسخر کو وہ لوگ دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں اور مست ہاتھی کی طرح سے گزر جاتے ہیں۔یہ انقلاب اس عظیم الشان کام اور کیریکٹر کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ہمارے مبلغین سے ظاہر ہوا۔اس بے سرو سامانی کی حالت میں یہ ایثار مجسم اور طہارت و پاکیزگی کے پہلے اپنا کام کرتے ہیں۔ہمارے مبلغین کے کام کی نوعیت کئی قسم کی ہے۔کچھ ان کو زبان سے تقریری کام کرنا پڑتا ہے اور کچھ تحریری کام کرنا پڑتا ہے۔وہ اپنے کام کے لحاظ سے آزاد ہوتے ہیں۔انہیں کسی قسم کی نگرانی نہیں ہوتی اگر خدا تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ کا جذبہ ان لوگوں میں نہ ہو تو وہ بغیر کام کرنے کے اپنی رپورٹیں بھیج سکتے ہیں۔میں چونکہ چشم دید گواہ ہوں اس لئے پوری بصیرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ لوگ جس تن دہی