حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 319 of 923

حیاتِ خالد — Page 319

حیات خالد 318 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اس ملک میں کام کر رہے ہیں۔ان کے مقابلے میں کوئی مشن قائم کرنا ویسے ہی اخراجات کا تقاضا کرتا ہے۔فلسطین کو جو اہمیت حاصل ہے اس کے لحاظ سے وہاں گرانی بھی ہے۔مکانات گراں ، اشیاء گراں، الغرض ہر ایک چیز ہمارے ملک کے لحاظ سے گراں۔وہاں ایک قلیل رقم میں مشن کا قائم کرنا ہمارے تصور میں بھی نہیں آ سکتا۔ہمارے مبلغ ایسی حالت میں وہاں جاتے ہیں جب کہ ان کو باقاعدہ ایک مقررہ تاریخ پر روپیہ ملنا ہوتا ہے، پہنچ نہیں سکتا۔اعلیٰ درجہ کا مکان اس کے پاس نہیں ہوتا۔اور مکان میں آسائشیں اور راحت کا سامان نہیں ہوتا۔اگر کوئی زائر آ جائے اور اس کے لئے چائے پانی کی ضرورت پیش آئے تو وہ بھی اس مبلغ کو خود ہی مہیا کرنی پڑتی ہے اور باقی ہر قسم کا کام بھی اسے ہی سرانجام دینا پڑتا ہے۔اسے زیادہ وضاحت سے میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے مبلغ کو بہت ہی احتیاط سے اپنی زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔اسے یہ بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس کے اخراجات کم نہ ہو جا ئیں۔معلوم نہیں کہ روپیہ کی دوسری قسط کب آئے گی۔اسے مختصر سے مختصر اور کم سے کم قیمت کا مکان لیکر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔پھر یہ بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کہ وہ مکان ایسی جگہ واقع ہو جہاں شرفاء رہتے ہوں۔وہ مکان ایسا ہو جس میں معزز لوگ آ سکیں۔اسے تبلیغ کا کام بھی کرنا پڑتا ہے۔اسے تعلیم و تربیت کا کام بھی سرانجام دیتا ہوتا ہے۔اسے آنے والے دوستوں کے لئے چائے پانی کی تواضع بھی اپنے ہاتھ سے کرنی پڑتی ہے۔اسے اپنے مکان کو بطور مہمان خانہ کے بھی استعمال کرنا پڑتا ہے اور ان مہمانوں کی مہمان نوازی کے اخراجات بھی اپنی جیب سے ادا کرنے پڑتے ہیں۔اس طرح سے اسے ہر لحظہ اور ہر لمحہ ایک بہت بڑی قربانی کرنی پڑتی ہے اور یہ ایسی قربانی ہے کہ جو کبھی لوگوں کے سامنے نہیں آتی۔یہی نہیں بلکہ ایک اور بات جو میری نگاہ میں ان مبلغین کے مقام کو بہت بلند کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں آزادی و حریت کا دور دورہ ہے ہر ایک چیز یورپ کی رو میں بہہ رہی ہے ، ہر شئے کی صورت تبدیل ہو رہی ہے، عورتیں اور مرد بالکل یورپین بن رہے ہیں، پردہ اُڑ رہا ہے، داڑھیاں صاف ہورہی ہیں، کھانے پینے ، رہنے سہنے کے ڈھنگ بدل رہے ہیں سگریٹ نوشی اس قدر عام ہے کہ کوئی فرد اس سے بچ نہیں سکا۔ہمارے مبلغ جس قسم کی فضا سے نکل کر جاتے ہیں اس کے مقابلے میں وہاں بالکل نئی دنیا اور نئی فضا ہوتی ہے۔میں بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ان ملکوں میں چند دن کے لئے گئے اور اپنے عادات اور خصائص کو مٹا کر بیٹھ گئے۔حسن بے پردہ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی عفت کو کھو بیٹھے۔مگر میں نے دیکھا ہے اور غور سے دیکھا ہے کہ ہمارے مبلغ ان تمام حالات میں طوفان